42

’’ جو کام ضیاالحق نہ کر سکے وہ آصف زرداری نے کر دیا‘‘حیران کن انکشاف

لاہور(این این آئی) وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ جو کام ضیاالحق نہ کر سکے وہ آصف زرداری نے کر دیا۔وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مریم نوازکی سیاست نے مسلم لیگ ن کو سینٹرل پنجاب تک محدود کر دیا ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق جو کام ضیاالحق نہیں کرسکے وہ آصف علی زرداری نے کر دیا
اور پیپلز پارٹی اب اندرون سندھ کی جماعت بن کر رہ گئی ہے۔اگر آپ اگلے سال بھی کوشش کرناچاہتے ہیں تو آپ کی مرضی ہے لیکن آپ نہیں کر پائیں

گے اور اپنا وقت ضائع کریں گے،بہتر یہی ہے کہ ہم اور آپ انتخابی اصلاحات کے لئے کام کریں اور شفاف انتخابات کے نتیجے میں جو جیتے وہ اگلی حکومت بنالے گا،عمران خان کے علاوہ مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) کے پاس تو ملک بھر کی نشستوں پر مطلوبہ تعداد میں کھڑے کرنے کے لئے امیدواربھی نہیں ہیں،جس کمیٹی نے نواز شریف کی صحت کا جائزہ لینے کے بعد رپورٹ مرتب کی تھی کہیں وہی کمیٹی مریم صفدر کے ٹیسٹ نہ لے،لاہور اور کراچی میں کچرے کے ڈھیرے اور سیوریج کا حل وزیر اعظم نے نہیں دینا، صوبائی حکومتیں اور بیورو کریسی کس مرض کی دوا ہیں،اگر چیف سیکرٹری اور کمشنر زکام نہیں کر رہے تو انہیں گھر بھیج دینا چاہیے،آخری ڈھائی سال ہیں اوربیورو کریسی کے لئے واضح پیغام ہے آپ کو کام کرنا ہوگا اور جو منتخب لوگ ہیں ان کو مطمئن کرنا بھی ضروری ہے۔ لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ اپوزیشن نے کہا کہ انتخابات میں دھاندلی ہو رہی ہے، انتخابی نظام خصوصاً الیکشن کمیشن کا نظام درست نہیں ہے، پہلے دن وزیر اعظم نے تقریر کی اور انہوں نے اسمبلی کے اندر ایک کمیٹی بنا دی جس کو کہا گیا کہ انتخابات میں جودھاندلی ہوئی ہے
اس کی تحقیقات کرے۔ اپوزیشن نے کہا کہ آر ٹی ایس سسٹم فیل ہوا، ہم نے ان سے پوچھا کہ کون سے حلقے ہیں جہاں پر سسٹم ناکام ہوا لیکن انہوں نے ایک بھی حلقہ پیش نہیں کیا، پھر انہوں نے کہا کہ ہمارے جو پولنگ ایجنٹس ہیں ان کے پاس جو انتخابی نتیجہ تھا اور جو الیکشن کمیشن کا نتیجہ تھا وہ مختلف تھا، ہم نے کہاکہ پولنگ ایجنٹس کا یا فارم 29ہے وہ دیدیں لیکن ایک بھی حلقے کا فارم 29نہیں آ سکا۔
جب الیکشن کمیشن کے پاس انتخابی عذر داریاں دائر کرنے کی بات آئی تو مجموعی طو رپر پنجاب میں 25انتخابی عذر داریاں ہوئیں جن میں سے 13پی ٹی آئی کی اور 11(ن) لیگ کی تھیں جس میں دھاندلی کا بیانیہ باہر آ گیا، ہم نے ان کو کہا کہ آئیں بیٹھتے ہیں،ڈسکہ کے ضمنی انتخاب میں آپ بھی کہتے ہیں انتخاب شفاف نہیں ہوا، حکومت بھی یہی کہتی ہے، سینیٹ الیکشن میں یہی مدعا ہے، یوسف رضا گیلانی کا جو انتخاب ہو اس پر بھی دونوں کہہ رہے ہیں کہ انتخاب صحیح نہیں ہے، جب حکومت اور
اپوزیشن کا اتفاق رائے ہے کہ انتخابی نظام میں تبدیلی آنی چاہیے اور ہم آپ کو اس کی اصلاح کے لئے پیشکش کر رہے ہیں لیکن آپ روٹھے ہوئے بچوں کی طرح بیٹھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے کہنے پر سپیکر نے پیشرفت کی ہے آپ اگر اس میں پھر بھی شامل نہیں ہوتے تو آپ اصل میں پاکستان کا نقصا ن کر رہے ہیں،ضروری ہے کہ پاکستان کے لوگ اور اپوزیشن پارٹیوں کے
پارلیمانی لیڈر ہے اس کا نوٹس لیں۔ ہم 24/7مریم نواز، نواز شریف یا آصف زرداری کے مقدمات پر پر مذاکرات نہیں کر سکتے،ہم نے بڑی واضح پالیسی لی ہے،آپ بھلے عدالتی نظام میں اصلاحات کیلئے بیٹھنا چاہتے ہیں ہم تیار ہیں، عدالتوں میں اس وقت اصلاحات کی اشد ضرورت ہے، اس وقت ہمارا جو عدالتی نظام ہے ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل کی رپورٹ کے مطابق عوام نے اسے سب سے
زیادہ غیر اطمینان بخش قرار دیا ہے۔ ضروری ہے کہ عدالتی نظام میں اصلاحات آئیں اور یہ اصلاحات تب آئیں گی جب حکومت،اپوزیشن او رعدلیہ مل کر اصلاحات کریں گی،ہم تینوں جزو ہیں ہم جب نہیں ملیں گے یہ اصلاحات نہیں آسکتیں، اسی طرح الیکشن کمیشن میں اصلاحات کی ضرورت ہے اور اس کے لئے ہمارا،الیکشن کمیشن اوراپوزیشن جماعتوں کا اتفاق رائے ضروری ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ آئندہ عام انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر جائیں،الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے اوپر نتیجہ چند سیکنڈز میں
مل جائے گا اوراس میں دھاندلی کی گنجائش بھی کم ہو جائے گی، اس وقت ان اصلاحات کی طرف بڑھنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ دوسرا اس وقت مجموعی صورتحال یہ ہے کہ اپوزیشن عمران خان فوبیا سے باہر نکل آئے، آپ نے ڈھائی تین سال کوشش کر لی ہے آپ حکومت کو رخصت نہیں کر پائے،آپ اگلے سال پوری کوشش کرناچاہتے ہیں توآپ کی مرضی ہے لیکن آپ نہیں کر پائیں گے
اور آپ اپنا وقت ضائع کریں گے لہٰذا بہتر یہ ہے کہ ہم اور آپ آئندہ عام انتخابات کے لئے کام کر یں اورجو جیتے وہ اگلی حکومت بنالے گا۔ اس وقت جو صورتحال ہے عمران خان کے علاوہ کسی جماعت کے پاس ملک بھر میں نشستوں پر مطلوبہ تعداد میں امیدوارہی نہیں ہے، عمران خان کی جماعت ایسی ہے جو سب سے زیادہ امیدوار کھڑے کر سکتی ہے۔ جے یو آئی،مسلم لیگ (ن) یا پیپلز پارٹی کے
پاس حلقوں میں لوگ نہیں ہیں اور جب ایسی صورتحال ہوتی ہے تو آپ اپنے گریبان میں جھانکتے ہیں،اپنی سیاست کی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں۔ میرا اپوزیشن جماعتوں کو مشورہ ہے کہ آپ نے تیس مار خان بن کر دیکھ لیا ہے آپ سے ایک مکھی نہیں ماری گئی،اپنی سیاست پر نظر ثانی کریں او رقومی سیاست کی طرف آئیں۔انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک کا چاند 13اپریل کی شام کو نظر آ جائے گا اور 14اپریل کو پہلا روزہ ہوگا، نور الحق قادری صاحب نے کہا ہے کہ یہ اعلان رویت ہلال کمیٹی کو کرنا چاہیے،
جب تک قانون ہے رویت ہلال کمیٹی اعلان کرے گی لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے مستقبل کی بنیاد سائنس ٹیکنالوجی اور علم کے اوپر رکھنی ہے،ہم مستقبل میں پیچھے مڑ کر نہیں دیکھ سکتے آگے دیکھنا ہے اورآگے جا کر اپنے فیصلے کر سکتے ہیں۔ مستقبل کی بنیاد رکھنی ہے، 70،80اور90کی دہائی میں بہت نقصان ہے جس میں ہم نے سائنس و ٹیکنالوجی سے اپنا ناطہ توڑ لیا، اگر میتھس نہیں پڑھایا جاررہا تو ہمارے بچے کیا کارنامے سر انجام دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتوں سے
کہنا چاہتا ہوں تعلیم پر فوکس کریں اس کا معیار بڑھانا چاہیے،سائنس اور ٹیکنالوجی پر فوکس بڑھانا،پہلی مون آبرزرویٹی بنا رہے ہیں اور بچوں کو دعوت دے رہے ہیں،آئندہ پانچ سے چھ ماہ بچے چاند خود دیکھ لیا کریں گے۔ یہ نقطہ نظر ہے کہ ہم مستقبل کو سامنے رکھیں۔ فواد چوہدری نے کہا کہ لاہور اورکراچی میں کچرے کا مسئلہ ہے اور ڈھیر لگے ہوئے ہیں،صوبائی حکومتوں کا کام ہے کہ وہ کچرے سے انرجی پیدا کرنے کے منصوبے کیوں نہیں لگاتیں،لاہور اورکراچی کی حکومت کیوں اس پر کام نہیں کر رہی،
ہر کام وزیر اعظم نہیں کرسکتے یہ مقامی حکومتوں اور اور افسران کی ذمہ داری ہے کہ وہ آگے بڑھیں،اگر لاہور کے اندر کچرے کے ڈھیر ہیں تو چیف سیکرٹری او ر کمشنر موجود ہیں وہ تنخواہ لے رہے ہیں،اگر وہ کام نہیں کر رہے انہیں گھر بھیجنا چاہیے، وزیر اعظم نے واضح کہا ہے کہ جو کام نہیں کر یگا ان کو ہم گھر بھیج دیں گے،چیف سیکرٹری اگر ڈیل نہیں کر رہے تو ان کا تو کوئی کام نہیں، کمشنر لاہور کام نہیں کر پارہے تو انہیں گھر بھیجنا چاہیے۔ ہر کام اور اس کا حل وزیر اعظم ہاؤس دے گا یہ نہیں ہو سکتا،
وزیر اعظم بڑی پالیسی طے کرتے ہیں،ہر کام وزیراعظم نہیں کر سکتے،ایسا سوچ نہیں ہونی چاہیے کہ لاہور کے کچرے اورسیوریج کے مسائل وہی حل کریں گے،کیا کراچی کے مسائل وزیر اعظم سے حل کرانے ہیں،صوبائی حکومتوں کے اندر لوگ بیٹھے ہیں انہیں تنخواہیں دینے کا کیا فائدہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اگست کے بعد ہمارے پاس ڈھائی سال ہیں، وزیر اعظم کا بیورو کریسی کے لئے واضح پیغام دیا ہے آپ کو کام کرنا ہوگا ہمارے جو منتخب لوگ ہیں ان کو مطمئن کرنا بھی ضروری ہے، منتخب لوگوں کا کام
وژن دینا ہے وہ آگے بڑھیں اور اپنا وژن اپنے علاقوں میں دیں، بیورو کریسی وژن دے گی اور وہی آگے بڑھے گی ایسا نہیں ہے،منتخب نمائندوں کی عزت و تکریم بہت اہم ہے اوروزیر اعظم نے بیورو کریسی کو یہ واضح پیغام دیا ہے، ڈھائی سالوں میں ڈلیوری کا میکنزم بہتر ہوگا۔انہوں نے ڈاکٹر عدنان کی لندن سے پاکستان آمد کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ نواز شریف اور ان کے حواریوں نے
پورا ڈرامہ بنا یا کہ نواز شریف بڑے بیمار ہیں،ان کی بیماری کایہاں علاج نہیں، ہم بھی کہتے ہیں علاج ضرور ہونا چاہیے جیسے پاکستان میں دوسرے مریضوں کا ہوتا ہے،اس وقت جو کمیٹی بنائی گئی تھی جس نے ٹیسٹ کئے وہی کمیٹی کہیں مریم کے ٹیسٹ نہ لے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں