67

لیڈی سمگلر سے 180 کلو چرس اور 36 کلو افیون برآمد کرلی

رپورٹ:عبدالرشید ندیم/ معاون اسد علی

وطن عزیز میں موجودہ دور میں امن عامہ اور لا اینڈ آرڈر کی صورتحال مجموعی طور پر اتنی تسلی بخش نہیں ہے۔ جن اضلاع اور ڈویژنوں میں پولیس کی کارکردگی بہتر ہے اوررشوت،بدعنوانی اور اقربا پروری جیسی لعنتیں کم ہیں وہ اضلاع اور ان کے عوام الناس خوش قسمت ہیں۔ان حوالوں سے ضلع شیخوپورہ ایک خوش نصیب ضلع ہے کہ یہاں کرائم فائٹر،دیانتدار،فرض شناس،غریب سائلوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے والے اور انسانیت کا درد رکھنے والے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر غلام مبشر میکن تعینات ہیں۔ ان کی احسن کارکردگی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ جب سے اس ضلع میں تعینات ہوئے ہیں ضلع بھر کے عوام کو پولیس سے کوئی شکایت نہیں ہوئی ہے۔اس کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ کوئی بھی بڑے سے بڑا جرم اور دشوار ترین تحقیقات اور تفتیش اس عرصہ میں ضلع بھر کی پولیس کے مقابل چیلنج بن کر سامنے آئی پولیس نے اس کو احسن انداز میں حل کیا اور سیاسی سماجی کاروباری حلقوں میں اطمینان اور خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اس ضمن میں متعدد مثالیں دی جا سکتی ہیں مگر اختصار کے ساتھ صرف ایک مثال پر اکتفا کیا جاتا ہے کہ پچھلے سال دسمبر میں تھانہ صدرِ فاروق آباد کے علاقے ککڑ گل میں موثر وے کے قریب شقی القلب ڈاکوؤں نے ایک غریب مسیحی بچی کو رات کے وقت نہ صرف لوٹا بلکہ اس کے گھر والوں کے سامنے شیطانی ہوس کا نشانہ بھی بنا ڈالا اور موقع سے فرار ہو گئے۔ لاہور موٹر وے زیادتی کیس کی وحشت،عوام کے غیض و غضب کا اظہار اور شاہراہوں پر حوا کی بیٹیوں پر جنسی مظالم پر واویلا کی گونج ابھی کم نہ ہوئی تھی کہ ضلع شیخوپورہ میں اسی نوعیت کی ایک اور واردات جلتی پر تیل کا کام کر گئی۔عوام الناس کا خوف و ہراس کا شکار ہو جانا، پولیس پر تنقید کرنا اور غریب متاثرہ بچی کے حق میں ملک بھر کے مسیحی رہنماؤں حتیٰ کہ دنیا بھر کے بااثر ممالک کا احتجاج کرنا لازمی امر بن گیا۔واردات کا موقع محل دیکھ کر کوئی بھی ادارہ یا ایجنسی یہ گمان نہ کر سکتا تھا کہ اس واردات کے مرتکب پکڑے جا سکیں گے۔ ڈی پی او شیخوپورہ غلام مبشر میکن نے اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے فوری طور پر نہ صرف متاثرہ بچی کے والدین کو تسلی دی اور باور کرایا کہ وہ جلد از جلد شیطان صفت ملزموں کو پکڑ لیں گے بلکہ اپنے ماتحت کرائم فائٹر پولیس افسران ڈی ایس پی عمران عباس چدھڑکی قیادت میں تشکیل دی۔ ہر پہلو اور ہر ٹیکنالوجی کی مدد سے انتہائی محنت اور کوشش سے صرف آٹھ روز کے قلیل عرصے میں واردات کرنے والے تینوں ڈاکوؤں کو پکڑلیا۔ متاثرہ بچی نے بھی شناخت کر لیا اور میڈیکل رپورٹس سے بھی تصدیق ہو گئی کہ ان میں سے دو ڈاکوؤں نے بچی کے ساتھ زیادتی کی تھی۔بعدازاں چند روز بعد ان ڈاکوؤں کو موقع ملاحظہ کے لئے پولیس لے کر جا رہی تھی کہ تھانہ صدر فاروق آباد کی حدود میں ہی ان میں سے دو ڈاکوؤں کو ان کے ساتھیوں نے پولیس موبائل پر ہر حملہ کر کے ڈرامائی انداز چھڑوا لیا اور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ پھر ایک بڑا چیلنج درپیش تھا کہ مگر ڈی پی او شیخوپورہ غلام مبشر میکن اور ان کی کرائم فائٹر ٹیم نے یہ معرکہ بھی سر کر لیا اور مفرور ڈاکوؤں کو ان کے ساتھیوں سمیت تھانہ صدر فاروق آباد کی حدود میں ہی گھیر لیا۔ پولیس اور ڈاکوؤں کے مابین فائرنگ ہوئی اور شیطان صفت دو ڈاکو ہلاک ہو گئے۔ اس بڑی کارروائی میں شہریوں، سیاسی سماجی حلقوں، اندرون و بیرون ملک مسیحی رہنماؤں نے شیخوپورہ پولیس کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا۔
منشیات فروشوں کے خلاف بھرپور ایکشن لینا ڈی پی او شیخوپورہ کے مطابق ایک جہاد سے کم نہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ منشیات فروشی تمام جرائم کی جڑ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جرائم کی ابتدا اکثر اسی جرم سے ہوتی ہے اور اسی جرم کی انتہا دہشت گردی تک جاتی ہے۔ اس لعنت کے خاتمے کے لیے انہوں نے ضلع بھر میں خصوصی مہم شروع کررکھی ہے جن میں پولیس گشت، ریکارڈ چیکنگ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مخبری کا نظام قائم کیا ہوا ہے جس کے موثر ہونے کی وجہ سے اس جرم کے خاتمے میں ضلع پولیس کو کافی حد تک مدد مل رہی ہے اور عوام الناس سکھ کا سانس لے رہے ہیں۔ حال ہی میں مخبر خاص کی اطلاع کہ علاقہ غیر سے منشیات کی بہت بڑی کھیپ بذریعہ موٹروے شیخوپورہ،لاہور سمیت دیگر اضلاع میں سپلائی کیلئے آرہی ہے جس پر ڈی پی او غلام مبشر میکن کی ہدایت پر کرائم فائٹر ڈی ایس پی عمران عباس چدھڑ نے ایس ایچ او فیکٹری ایریا سردار افضل کی نگرانی میں پولیس پارٹی تشکیل دی جنہوں نے بین الصوبائی لیڈی سمگلر کو عین اس وقت گرفتار کر لیا جب وہ کرولا کار نمبری BLC-617 پر ایک تین سالہ بچی اور ایک ساتھی کے ہمراہ اسلام آباد کی جانب سے بذریعہ موثر وے کوٹ عبد المالک انٹر چینج پر اتر رہی تھی کار روک کر جب تلاشی لی گئی تو ڈگی اور فرنٹ سیٹ کے آگے قدموں کے نیچے چھپائی گئی 180 کلوگرام چرس اور 36 کلوگرام افیون برآمد کر لی گئی۔ لاکھوں روپے مالیت کی ان منشیات کے نمونے برائے ملاحظہ کیمیائی پی ایف ایس اے لیبارٹری لاہور بھجوانے کے بعد ملزمان سے پوچھ گچھ کی گئی توابوالخیر کوٹ عبد المالک کی رہائشی ملزمہ شاہدہ پروین نے بتایا کہ وہ اس واردات کی ماسٹر مائنڈ ہے وہ عرصہ دراز سے منشیات سمگل کر رہی ہے

لیڈی سمگلر سے 180 کلو چرس اور 96 کلو افیون برآمد کرلی

اور آج تک اپنا پولیس ریکارڈ نہیں بننے دیا۔ ہر بار نئے آدمی کے ہمراہ واردات کرتی ہے۔ اس کے ساتھ پکڑا جانے والا ا ملزم شہزاد احمد ولد امیر علی قوم رحمانی سکنہ سکیم نمبر 3 کوٹ عبد المالک پہلی بار اس کے ساتھ یہ منشیات خرید کرکے لارہا تھا ڈی پی او شیخوپورہ غلام مبشر میکن کی خصوصی ہدایات پر ڈی ایس پی فیروز والا عمران عباس چدھڑ اور ایس ایچ او سردار محمد افضل ڈوگر کی سربراہی میں اے ایس آئی ذکا اللہ اور دیگر پولیس ملازمین نے بڑے پیمانے پر منشیات سمیت اسمگلرز کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر کے جرائم کے ایک لمبے چوڑے سلسلے کو ختم کر دیا ہے کرائم فائٹر عمران عباس چدھڑ ڈی ایس پی فیروز والا نے بتایا کہ گرفتار ملزمہ سے مزید سنسنی خیز انکشافات کی توقع ہے۔

ڈی پی او شیخوپورہ غلام مبشر میکن نے اس بڑی کارکردگی پر عمران عباس چدھڑ اور ان کے ماتحت
افسران اور جوانوں کو پچاس ہزار روپے نقد اور تعریفی اسناد عطاء کی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں