35

بڑی تعداد میں اوورسیز کمیونٹی پاکستان میں پھنس چکی ہے اور پاکستان کو ریڈ لسٹ میں ڈالے جانے پرمسائل کاشکارہو چکی ہے

لندن(عارف چودھری)برطانیہ کی جانب سے پاکستان کو ریڈلسٹ میں ڈالے جانے پرکمیونٹی رہنماؤں کی حکومت برطانیہ کے علاوہ حکومت پاکستان اور ممبران قومی اسمبلی،سینیٹرز اوروفاقی وزراء سے رابطے،مسئلہ کو اسمبلی میں اٹھانے اورحکومت پاکستان کواس مسئلہ پر برطانوی حکومت سے اٹھانے کا مطالبہ کردیا۔ جموں و کشمیرتحریک حق خودارادیت انٹر نیشنل کے چیئرمین راجہ نجابت حسین نے وفاقی وزراء، پارلیمانی سیکرٹریز،ممبران قومی اسمبلی اورسینیٹرز کوخطوط اورای میل لکھ کرانہیں اوورسیز کے مسئلہ پر توجہ دینے اوراس مسئلہ پر حکومت پاکستان کی جانب سے برطانوی حکومت پردباؤ ڈالے جانے کی اپیل کی۔اس حوالے سے وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی،سابق چیئرمین کشمیر کمیٹی وفاقی وزیر سیدفخر امام،ایم این اے عظمیٰ جدون، سینیٹر مشاہد حسین سید،سینیٹر شیری رحمان،وفاقی وزیر شیریں مزاری، سینیٹر رضا ربانی، ایم این اے شائستہ پرویز ملک اور دیگر حکومتی و اپوزیشن ممبران پارلیمنٹ کوخطوط لکھے اورای میل کے ذریعے ان کی توجہ اس مسئلہ کی جانب مبذول کرائی۔راجہ نجابت حسین نے مطالبہ کیا کہ اس مسئلہ کو اسمبلی میں بھی اٹھایا جائے۔راجہ نجابت حسین نے خط میں کہا کہ بڑی تعداد میں اوورسیز کمیونٹی پاکستان میں پھنس چکی ہے اور پاکستان کو ریڈ لسٹ میں ڈالے جانے پرمسائل کاشکارہو چکی ہے۔حکومت پاکستان کی جانب سے اس مسئلہ پر ابھی تک کوئی نوٹس نہ لیاجانا اوورسیز کمیونٹی کے لیئے تشویش کا باعث ہے۔ریڈ لسٹ میں ڈالے جانے کے بعدبڑی تعدادمیں اوورسیز کمیونٹی پاکستان میں ہونے کی وجہ سے مشکل میں پھنس گئی ہے۔ حکومت پاکستان اس مسئلہ پرفوری توجہ دے اوربرطانوی حکومت سے بات کرکے اوورسیز کمیونٹی کے لئے آسانی پیدا کرے۔برطانیہ سے فوری طورپرچارٹرڈفلائٹس چلائی جائیں تا کہ پاکستان میں آئے ہوئے لوگوں کوبغیر کسی مشکل کے انہیں واپس برطانیہ پہنچایا جا سکے۔ اس موقع پر انہوں نے مزید کہا کہ اوورسیز کمیونٹی نے ملک کی ترقی و خوشحالی کے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ اس مشکل مرحلہ پرحکومت پاکستان کو پوری دلچسپی اورکوشش کے ساتھ اوورسیز کے لئے ریلیف کے لئے اقدامات اٹھانے ہوں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں