186

یا الٰہی!!! ابابیل کو بھیج، اب انسان کو بچانے!! تحریر: ڈاکٹر محمد عثمان یونس(ہالینڈ )

یا الٰہی!!!
ابابیل کو بھیج، اب انسان کو بچانے!!

تحریر: ڈاکٹر محمد عثمان یونس(ہالینڈ )

وبائی فلو دو طرح کے ہوتے ہیں، ایک جاڑے سے پہلے آتا ہے اور دوسرا جاڑے کے بعد، صدیوں سے یہ سلسلہ چلا آ رہا ہے اور چلتا رہے گا!!

ایسا کیوں ہے اس کا علم تو صرف اللہ تعالٰی کو ہی ہے مگر جدید طبی دنیا کے لیئے یہ ایک معمہ ہے۔ اس سے زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ ایک موسم کے جراثیم کی موجودگی میں دوسرے موسم کے جراثیم کیوں غائب ہو جاتے ہیں اور اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ ان دونوں موسموں کے درمیانی عرصہ میں یہ جراثیم کہاں چھپے ہوتے ہیں!!!

جدید کہلانے والی میڈیکل سائنس کے پاس اس کا اطمینان بخش جواب نہیں ہے کیونکہ وبائی امراض میں جدت پسند میڈیکل شعبہ آنکڑوں اور فیصد پر یقین رکھتا ہے نہ کہ مریض کی انفرادی علامات پر۔

بلکہ ماڈرن میڈیکل سائنس فلسفے اور انفرادی علامات پر یقین نہیں رکھتی !!
ممکن ہے پس پردہ یقین رکھتی ہو مگر دنیا کے سامنے ورلڈ ھیلتھ آرگنائزیشن کی شکل میں صرف آنکڑوں کا حساب کتاب ہی دنیا کو بتایا جاتا ہے!!

ہو سکتا ہے بلکہ شاید یقیناً اس کے پیچھے ورلڈ ھیلتھ آرگنائزیشن کی طرح کے بڑے بڑے بین الاقوامی اداروں کے مقاصد شامل ہوں!! یہ میرا اپنا خیال ہے۔

کرونا وباء کے حوالے سے پچھلے ایک سال سے ورلڈ ھیلتھ آرگنائزیشن اور اس کی طرح کے دوسرے بین الاقوامی اداروں کی طرف سے بہت مواد دنیا کے سامنے آ رہا ہے جس میں وقتا” فوقتا” میں بھی اپنا حصہ ڈالتا رہتا ہوں۔

انہی لوگوں کے درمیان دنیا میں ایک طبقہ وہ بھی ہے جو کرونا وباء سے پیدا شدہ ماحول کو سراسر چند اداروں کی طرف سے پیدا شدہ صورتحال قرار دیتا ہے چونکہ بین الاقوامی میڈیا اس گروہ کے ساتھ نہیں اسی لیے ان کی آواز ہم تک نہیں آرہی!!

یہ کیا ہے یہ بہتر تو اللہ تعالٰی کی ذات ہی جانتی ہے۔

جب بھی مجھے کرونا وائرس سے پیدا شدہ بیماری پر لکھنے کا موقع ملا تو یہی لکھا کہ یہ بیماری اس سے پیدا شدہ علامات اور خطرات اپنی جگہ بالکل درست ہیں جن سے بچنا ہم سب پر لازم ہے!!

مگر اس کی آڑ میں انسانی صحت کے لیئے جو خوفناک ماحول بنایا گیا ہے اس ہنڈیا کی دال میں کچھ کالا ہے۔

یہ فلو اور اس کی علامات پہلے بھی ایک بیماری تھا، اب بھی ایک بیماری ہے اور آنے والے وقتوں میں اسی طرح کی علامات والی بیماری رہے گا!!

بے شک آپ امریکہ کی ویکسین لگوائیں یا پھر یورپ یا چائنہ کی!!

بس ورلڈ ھیلتھ آرگنائزیشن کی طرف سے ہر مرتبہ اس کے نام مختلف ہوں گے۔

امریکہ کے ایک سائنس دان نے پچھلی صدی کے آخر میں فلو اور انفلوئنزا کے وائرس کو سور میں دیکھا اور اس نے یہ ثابت کیا کہ یہ سالمہ ایک سور سے دوسرے سور میں پھیلتا ہے اور پھر اس جانور کے فضلے کے ذریعے فضا میں پھیل کر انسان تک پہنچتا ہے!!!

جدید میڈیکل سائنس کہتی ہے کہ اس کا وائرس آٹھ سے دس دن میں خود بخود مر جاتا ہے!!

مگر مرنے کے بعد یہ دوبارہ کہاں اور کیسے پیدا ہو جاتا ہے، آنکڑوں اور فیصد کی میڈیکل سائنس کے پاس اس کا جواب فی الوقت نہیں ہے۔

اسی لئے میں نے اپنی اس تحریر کا عنوان دنیائے طب کے معروف طبیب اور وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر مرزا انور بیگ کی ایک کتاب میں سے رکھا ہے کہ ” یا الٰہی ابابیلوں کو بھیج اب انسان کو بچانے”۔

یا رب العالمین تو ہی مشکل کشا ہے تو ہی آفتوں اور بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے وسیلے بناتا ہے۔

وبائی امراض اپنی علامتوں سے پہچانے جاتے ہیں نہ کہ ویسٹرن ٹیکنالوجی سے۔

اگر وبائی امراض میں ویسٹرن ٹیکنالوجی اتنی ہی کامیاب ہوتی تو وبائی امراض کا سلسلہ کبھی بھی ویسٹرن سوسائٹی سے شروع نہ ہوتا جیسا کہ موجودہ صورتحال میں شروع ہے۔

چونکہ میڈیا اور بڑے اداروں کی طاقت مغرب کے پاس ہے اسی لئے سب اچھا ہے کی رپورٹ دنیا کے سامنے آتی ہے۔

اگر میں ڈاکٹری یا سائنسی زبان اس تحریر میں استعمال کروں تو شاید تحریر لکھنے کا مقصد پورا نہ ہوسکے!!!

بات کرتے ہیں ایک مرتبہ پھر کووڈ 19 کی!!!

بین الاقوامی میڈیا کی خبر کے مطابق چائنہ سے ایک وبائی فلو کے قسم کی بیماری شروع ہوتی ہے اور پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے!!

پھر ورلڈ ھیلتھ آرگنائزیشن کی ٹیم چائنہ کے شہر ووہان جاتی ہے تاکہ اصلی یا نقلی وائرس کا کھوج لگا سکے اور ہمیشہ کی طرح خالی ہاتھ ناکام ہو کر واپس لوٹ جاتی ہے۔

ورلڈ ھیلتھ آرگنائزیشن کی ٹیم نہ پہلے کچھ نکال سکی اور نہ ہی حال ہی میں کی گئی Investigation کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نکلا۔

اگر پردے کے پیچھے کے حقائق اٹھائے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ برطانیہ کے ایک ہسپتال میں سب سے پہلے اس بیماری کا کیس سامنے آیا اور پھر بات چائنہ تک جا پہنچی۔

ورلڈ ھیلتھ آرگنائزیشن وہ ادارہ ہے جو صحت عامہ کے حوالے سے دنیا میں سب سے معتبر سمجھا جاتا ہے اور ہم یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ شاید ہمیں صحت و تندرست رکھنے کی ذمہ داری اسی ادارے کے پاس ہے۔

ورلڈ ھیلتھ آرگنائزیشن کے سائنس دان وہ سائنس دان ہیں جن کو صرف فیصد اور ریاضی کی زبان آتی ہے کہ فلاں بیماری سے اتنے فیصد بچے متاثر ہوئے اور اتنے فیصد بوڑھے!!

مگر کیوں ہوئے اور کیوں ہوتے ہیں اس سے ان کو کوئی زیادہ سروکار نہیں ہوتا۔

ورلڈ ھیلتھ آرگنائزیشن کی طرف سے اعلان کردہ کرونا وائرس سے پیدا شدہ علامات والی بیماری پہلے بھی تھی ، اب بھی ہے اور چلتی رہے گی بس فرق اتنا ہوگا کہ ہر مرتبہ ڈبلیو ایچ او کی طرف سے اس کے نام مختلف رکھے جائیں گے اور ہر مرتبہ خوف و ہراس پہلے سے زیادہ ہوگا تاکہ نیا عالمی ایجنڈ جو صیہونی طاقتوں کے حق میں ہوگا وہ عملدرآمد ہوتا رہے۔

اس کی جیتی جاگتی مثال کچھ اس طرح ہے کہ ورلڈ ھیلتھ آرگنائزیشن نے اس طرح کے فلو کو کبھی “وہائیٹ پلیگ” کہا، پھر اسی کا نام “گے پلیگ” رکھ دیا گیا اور پھر اسی کا نام “سوائن فلو” اور برڈ فلو رکھا!!!

کس پر یقین کریں اور کس پر نہیں۔۔۔واللہ اعلم!!!

مگر پھر بھی دل میں کہیں سے آواز آتی ہے کہ کچھ تو ہے دال میں کالا جس پر ورلڈ ھیلتھ آرگنائزیشن اور اس کے طفیلیے اس چیز کا بشمول ویکسین کا اتنا زیادہ زوردار اور خوفناک چرچہ کر رہے ہیں۔

لوگوں کا بیماری کی وجہ سے نقصان زیادہ ہوتا رہا ہے!!

مگر ڈبلیو ایچ او اور مغربی کمپنیوں کے ہائیجین سے بھرپور ماسک ، ہینڈ سینیٹائیزرز، بائیولاجیکل صابن، ٹشو سب پہلے سے سو گنا منافع کے ساتھ بک رہے ہیں۔

کرونا وائرس کے آغاز سے کافی سال پہلے بین الاقوامی اداروں کی طرف سے کچھ ایسی فلمیں بنائی گئیں جس میں یہ دکھایا گیا کہ کوئی خوفناک وائرس جو دنیا میں تباہی لائے گا وہ کبھی دروازے کے ہینڈل پر گھات لگائے بیٹھا ہے تو کبھی لفٹ کے بٹن پر۔ یہ سب دکھایا جانا تو ایک اشارہ تھا کہ کسی طریقے سے آنے والی دنوں کی قبولیت کے لیے انسان کا ذہن بنایا جائے۔

ہمارے خون میں 1gA نام کی اینٹی باڈیز ہوتی ہیں جو قدرتی طور پر وبائی امراض خصوصاً فلو اور انفلوئنزا سے بچانے کا کام کرتی ہیں اور ہمارے جسم کے اندرونی نظام کو امیون رکھنے کا کام کرتی ہیں!!

جب کس انسان کو خوفزدہ کیا جاتا ہے یا کسی پیاری چیز سے ڈرایا جاتا ہے تو 1gA دفاعی نظام میں خلل پیدا ہوتا ہے اور اس سسٹم کا دھیان خوف کے مارے کسی اور طرف لگ جاتا ہے!!

یہی وہ ممکنہ وقت ہوتا ہے جب انفلوئنزا کا وائرس سانس کی نالیوں میں آسانی سے داخل ہو کر اپنی جگہ بنا سکتا ہے!!

اب آپ خود ہی فیصلہ کرلیں کہ بیماری زیادہ خطرناک ہے یا پھیلایا گیا وہ خوف جو آپکی اندرونی قدرتی قوت مدافعت کو تہس نہس کر رہا ہے!!

ترقی یافتہ دنیا بیماری کا خوف پھیلانے میں تو کامیاب ہو گئی مگر ہر حربہ آزمانے کے باوجود بیماری پر قابو پانے میں ناکام رہی اور اپنے بین الاقوامی میڈیا کے ذریعے ایک جھوٹ چھپانے کیلئے سو جھوٹ بولے جارہے ہیں!!

اور پوری دنیا ان صیہونی طاقتوں کی بات مان رہی ہے اور دھاک لگا ئے بیٹھے ہیں کہ کب مسیحا آئے گا اور شفا بانٹے گا۔

ورلڈ ھیلتھ آرگنائزیشن کا ایک خبر کے ذریعے پیدا کردہ خوف ایک خبر کے ذریعے ہی ختم کر دیا جائے گا اور دنیا یقین کر لے گی کہ دنیا کے مسیحا نے کہا ہے تو سہی ہی ہوگا۔

بلیئن آف ڈالرز سالانہ ترقی یافتہ ممالک اپنے آپ کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لئے اور ماحول کو صاف بنانے کے سلسلے میں خرچ کرتے ہیں ۔

مگر جتنے زیادہ ڈالرز خرچ کیئے جا رہے ہیں اتنی ہی بیماریاں شفاف معاشروں میں جنم لے رہی ہیں۔

اگر پچھلے سو سال کے ڈیٹا کو اکٹھا کر کے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اوسط عمر میں چالیس سال کی کمی ہوئی!!

جبکہ نت نئی ویکسین کے ذریعے اور ماحولیاتی آلودگی کے خاتمہ کے بعد معیار صحت کو تو ہر سال زیادہ بہتر ہونا چاہیئے تھا تو پھر اتنی ترقی اور Investigation کے باوجود بہتری کیوں نہیں آئی؟

جب یہ سوال ان اداروں کو ماننے والوں سے کیا جائے تو یہ کہتے ہیں کہ پچھلے وقتوں میں خوراکیں خالص تھیں !! تو اگر پچھلے وقتوں میں خوراکیں خالص تھیں تو پھر آپ کی سائنٹیفک ترقی نے ایسا کیا خوفناک جادو جگایا کہ یہ خالص خوراکیں ناپید ہو گئیں اور دنیا کے اندر اپنا مال بٹورنے کے لیے Inorganic فوڈ کا اتنا چرچہ کیا گیا کہ آنے والی نسلیں اس خالص پن سے دور ہو گئیں!!

کبھی آئیوڈین ملا نمک کے نام پر، کبھی ڈبے والے دودھ کے نام پر تو کبھی جعلی بائیولاجیکل فوڈ کے نام پر!!

اور پھر ایک اور سوال ورلڈ ھیلتھ آرگنائزیشن اور ایلومیناٹی ایجنڈا کو ماننے والوں سے کیا جائے کہ صحت کا معیار خصوصاً نفسیاتی صحت کا معیار کیوں دن بدن گر گیا تو ان کا جواب ہوتا ہے کہ پچھلے وقتوں میں لوگ ادویات کم سے کم استعمال کرتے تھے اسی لئے صحت مند اور توانا تھے!!
تو اگر پچھلے وقتوں میں لوگ کم سے کم ادویات استعمال کرتے تھے تو پھر آپکی جدید ادویاتی سائنس نے کون سا ایسا تیر مارا کہ لوگ سائنٹیفک دور میں زیادہ سے زیادہ نئی نویلی ادویات استعمال کرنے پر مجبور ہو گئے!!

اور پھر اگر انسانی صحت سے کھیلنے والے اداروں سے سوال کیا جائے کے آپ کے اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود جدید دور میں اتنی تعداد میں نت نئی بیماریاں کیوں جنم لے رہی ہیں تو ان کا جواب ہوتا ہے کہ پچھلے دور میں چونکہ ماحول بہت خالص اور صاف ستھرا ہوتا تھا اسی لئے بیماریاں بہت کم تھیں!!

تو پھر اگر پچھلے دور میں ماحول اتنا صاف ستھرا ہوتاتھا تو آپکی سائنس نے ایسا کون سا کارنامہ انجام دیا کہ جدید سائنٹیفک دور کا ماحول ہی گندا ہو گیا!!!

اب صرف ایک ہی جواب باقی رہ گیا ہے جو میں ورلڈ ھیلتھ آرگنائزیشن اور اس طرح کے اداروں کو دینا چاہتا ہوں کہ جناب اس وقت آپ اور آپ کے طفیلیے نہیں ہوتے تھے۔

آخرت پر یقین نہ رکھنے والے لوگ دُنیاوی لوگوں کو اپنا من و عن مسیحا تصور کرتے ہیں!!!

ان لوگوں کو جو ان کی صحت کا ذمہ دار ہو۔

ہر جاندار کو اپنی صحت سے بڑا پیار ہے اگر آپ مکھی کو ہی دیکھیں تو وہ بھی اپنی جان بچانے کے لیے ہر حربہ بروئے کار لاتی ہے!!

اور انسان جو اشرف المخلوقات ہے اپنی جان بچانے کی خاطر سب کچھ کرنے کو تیار رہتا ہے!!

کیونکہ انسان کی فطرت اور رویوں کو کنٹرول کرنے کے بعد سائنس یہ جان چکی کہ انسان کی LUST کے لوازمات کیا ہیں۔

دنیا کے تین ادارے ہمیشہ سے ہی انسانی رویوں کی تبدیلی پر کام کرتے آئے ہیں!!!

جن میں نمبر ایک ورلڈ ھیلتھ آرگنائزیشن ہے جو انسانوں کی صحت پر بیماریوں کےاثرات کو خوفناک معمہ بنا کر خوف پھیلاتا آرہا ہے!!

دوسرا یونائیٹیڈ نیشن اور اس کے طفیلیے ہیں جو شعور، آگاہی اور آزادی کے نام پر انسان کو ایسی جہالت میں دھکیل رہے ہیں جس میں نہ تو کسی جنس کا لحاظ ہے اور نہ ہی کس مذہب کا!!

ان کو پلیٹ فارم مہیا کرنے والے تیسرے ادارے کا نام ہے بین الاقوامی میڈیا جو احسن طریقے سے اپنا کام سرانجام دے رہا ہے۔

یہ ایک بین الاقوامی ٹرائیکا (TRICA) ہے جو مل کر کام کرتا ہے۔ اور یہ تینوں اسی طاقت کے اندر کام کرتے ہیں جن کو دنیاوی مسیحا کہا جاتا ہے اور یہ دنیاوی مسیحا اپنے آنے والے مسیحا کے لیے راہ ہموار کرنے میں مصروف ہیں، جسکی حکومت، جس کا حکم اور جسکا اشارہ پوری دنیا میں چلے گا اور اسی کا نام ون ورلڈ آرڈر ہے۔

اس سارے ماحول میں وہ تمام ترقی یافتہ طاقتیں شامل ہیں جن کا تعلق اسلحہ سازی کی صنعت سے اور ادویات سازی کی صنعت سے ہے۔

کرونا وباء کے آغاز سے لے کر آج تک ایک سال سے زائد عرصہ کے دوران ورلڈ ھیلتھ آرگنائزیشن نے جتنے پینترے بدلے اس کی مثال ورلڈ ھیلتھ آرگنائزیشن کی پوری تاریخ میں نہیں ملتی۔

وہ ادارہ جو اپنے ہی ملک کے لوگوں کو اچھی صحت مہیا نہ کر سکے اس سے کیسے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ دنیا کے لوگوں کی صحت کا معیار بلند کر دے گا۔

وہ ادارہ جو چائنہ کو بیماری کا قصور وار ٹھہرائے، چائنہ کا بائیکاٹ کرے اور پھر چائنہ کے ہی بنے ہوئے میڈیکل آلات کرونا وائرس کی Investigations کے لیئے استعمال کرے تو کب تک ایسےادارے کا اعتبار کیا جائے۔

وہ ویکسین جس کی افادیت کے ابھی تک کہیں سے بھی ٹھوس شواہد نہیں مل سکے اس کو دنیا کے لوگوں میں ٹھونسنے کی مہم زور و شور سے جاری ہے۔

فائدہ صرف بین الاقوامی اسٹاک ایکسچینج میں ویکسین پر بولی لگانے والوں کا اور چند مخصوص ادویات سازی کی صنعت کا ہو رہا ہے کہ امریکی ویکسین بنانے والی کمپنی زیادہ مال چھاپ رہی ہے یا یورپی ویکسین بنانے والی کمپنی زیادہ مال بنا رہی ہے۔

یہ ایک ایسا ٹرائل ہے جو عمر رسیدہ افراد کو لگا کر ایک اعتماد پیدا کرے گا اور اس اعتماد کا ایک مرتبہ پھر فائدہ ورلڈ ھیلتھ آرگنائزیشن اٹھائے گی اور پھر باری آئے گی معصوم بچوں کی!!!

مستقبل بعید میں کچھ ایسی ویکسین بچوں کو لگائی جائے گی اور آنے والی نسل کے رویوں اور سوچ کو تبدیل کر کے اپنے تابع کرنے کا کام شروع ہوگا تاکہ جو نسل اس ویکسین کے ساتھ پروان چڑھے اس کو صیہونی طاقتیں بغیر کسی حجت کے اپنی طرف متوجہ رکھ سکیں۔

صیہونی طاقتوں کی طرف سے دنیا کو نظر بند کرنا اور پھر اپنے ہی حکم سے کھول دینا یہی ایک ٹرائل مشن ہے۔

ممکنہ حالات یہ بتاتے ہیں کہ مستقبل میں لوگوں کو اپنوں سے ملنے کے لیے بھی ایک NOC درکار ہو گا اور یہ این او سی دجالی طاقت ورلڈ ھیلتھ آرگنائزیشن کی طرف سے جاری کردہ ہو گا جو یہ ظاہر کرے گا کہ اب آپ کو ادارے کی طرف سے اپنے پیارے سے ملنے کی اجازت ہے۔

ورلڈ ھیلتھ آرگنائزیشن اور اس کے طفیلیے اداروں سے میرا ایک سوال ہے کہ کیا کرونا وائرس ختم ہونے کے بعد آپ کسی نئی زندگی میں چلے جائیں گے؟

کیا یہ وبائی بیماری اور یہ علامات انسان میں دوبارہ کبھی نہیں آئیں گی؟

جس خوف اور نفسیاتی پیچیدگیوں کے اندر آپ نے دنیا کو الجھا دیا ہے کیا ان میں سے دنیا کو نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے؟

مغربی معاشروں کو دیکھ کر تو یوں لگتا ہے کہ یہ معاشرے ہمیشہ رہنے والے خوف اور نفسیاتی مسائل میں مبتلا ہو جائیں گے۔

آنے والے دنوں میں ورلڈ ھیلتھ آرگنائزیشن کی طرح سے مریضوں کی شرح کو کم کرکے بتایا جائے گا اور دنیا کے سامنے تاثر دیا جائے گا کہ ترقی یافتہ ممالک کرونا سے جیت گئے کیونکہ سب ویکسین ذدہ جو ہو گئے ہیں!!

اور آنے والے دنوں میں ورلڈ ھیلتھ آرگنائزیشن اور بین الاقوامی میڈیا کے کرونا کا نزلہ چند مخصوص مسلم ممالک بالخصوص پاکستان پر نکلے گا۔

سوال یہ اٹھتا ہے کہ امریکہ کو اور مغربی اداروں کو انسانی صحت کی اتنی فکر کیوں ہے؟

یہ تو وہ بڑے دہشت گرد ہیں جو نہتے انسانوں کا سرے عام قتل کر رہے ہیں۔ پھر انسانی جانوں کے پیچھے اتنے پریشان کیوں ہیں؟

شیطانی طاقتیں مختلف انداز میں اور مختلف ناموں کے ساتھ اپنا کام سرانجام دے رہی ہیں!!!

مگر مسلمانوں کو اگر خطرہ ہے تو اپنی ہی صفوں میں موجود اپنے ہی لوگوں سے ہے جو شیطانی کاموں میں ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔

آپ ﷺ رحمت العالمین نے آج سے 1400 سال پہلے اپنی صحت کو درست رکھنے کے لئے اور بیماریوں سے بچاؤ کے لئے جو نسخہ جات اپنی امت کے لیے بلکہ عالم انسانیت کے لیے کرم فرمائے تھے آج پوری ترقی یافتہ دنیا کی یہ کوشش ہے کہ وہ ان اشیاء کی طرف لوٹ آئیں!!

مگر انتہائی دکھ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ کے امتی جن کی یہ میراث ہے ہم ان سے مستفید ہی نہیں ہوتے۔

نبی کریم ﷺ کی احادیث مبارکہ کو اور مسلمانوں کی حکمت کو جب مغرب اپنے نام سے شائع کرتا ہے تو ہم بڑے خوش ہوتے ہیں اور شوق سے مانتے ہیں۔

ہمیں ہر حربہ آزمانے کے بعد آخر میں نبی پاکﷺ کی سنت اور علاج نبوی ﷺ پر لوٹنا پڑے گا!!

یہی وہ واحد راستہ ہے اپنی صحت کو بہتر رکھنے کے لئے۔

میری ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ اپنی تحریر میں توجہ دلاو فکری عنصر شامل رکھوں!! شاید اسی لئے قلم چلتا ہے۔

کاش ہم آقائے دو جہاں محمد مصطفٰی ﷺ کے امتی یہ سمجھ جائیں کہ مغربی ترقی جو اپنے ہی لوگوں کے گرد گھیرا تنگ کرتی ہے ہم نے اس سے متاثر نہیں ہونا۔

جہاں پر ہمارے پاس قرآن مجید فرقان حمید کی صورت میں مکمل زندگی گزارنے کا بھرپور اللہ تعالٰی کا قانون موجود ہو،
نبی کریمﷺ کی سیرت طیبہ ہمارے لیئے راہنمائی کا ذریعہ ہو، علاج نبوی ﷺ ہمارے پاس موجود ہو تو اس صورتحال میں ہمیں چاہئے کہ تمام تر احتیاطی تدابیر کے ساتھ دل سے ان تمام چیزوں کی طرف مائل ہو جائیں۔

جہاں پر اپنی صحت کو تندرست و توانا رکھنے کے لئے اتنے پاپڑ بیلے جارہے ہیں وہاں پر آپ ﷺ کے متعین کردہ طب نبوی ﷺ کے اصولوں کو اپنی روزانہ کی زندگی میں دل سے شامل کریں۔

اللہ تعالٰی ہمیں نبی کریم ﷺ کی سیرت کی مکمل رہنمائی عطاء فرمائے آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں