28

وزیر اعظم کی جانب سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کا نوٹس لینے اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں فوری کنٹرول کے واضح احکامات کے باوجودرمضان المبارک میں مہنگائی کا جن بے قابو ہو گیا ،تمام اشیاء انتہائی مہنگی

راولپنڈی (آن لائن)وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کا نوٹس لینے اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں فوری کنٹرول کے واضح احکامات کے باوجودرمضان المبارک میں مہنگائی کا جن بے قابو ہو گیا اشیائے خوردونوش کے بعد عید الفطر کی تیاریوں کے پیش نظرکپڑوں کی سلائی ،ریڈی میڈ گارمنٹس،جوتوں اور ہوزری سمیت تمام اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں 30سے40فیصد خود ساختہ اضافہ کر دیا گیا انتہائی غیر معیاری اورمضر صحت اشیا کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں جبکہ ضلعی انتظامیہ مہنگائی کنٹرول کرنے میں مکمل ناکام ہو گئی پرائس کنٹرول مجسٹریٹوں اور مارکیٹ کمیٹی کی

مبینہ ملی بھگت سے پھلوں اور سبزیوں سمیت تمام اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے ساتھ مارکیٹ میں غیر معیاری اشیا کی ریل پیل ہو گئی مارکیٹ کمیٹی نے پھلوں اور سبزیوں کو اے ،بی اور سی کے 3 درجات میں تقسیم کر کے معیار کے اعتبار سے3الگ الگ قیمتیں مقرر کردیں جبکہ پرچون فروشوں سے سی کلاس کے لئے اے کلاس کی قیمتیں مقرر کر دیں سفید کیمیکل ملی چینی 100روپے فی کلو، دودھ 130، دہی 140روپے کلو پرچون فروشوں نے پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میںمزید 30سے50فیصد خود ساختہ اضافہ کر دیا گرانفروشی کے خلاف کاروائیاں مضافاتی دیہی علاقوں تک محدود رکھنے کے ساتھ بند کمروں میں اجلاسوں اور فوٹو سیشن تک محدود ضلعی انتظامیہ ، کنزیومر کونسل اورمارکیٹ کمیٹی اپنے ہی جاری کردہ نرخوں پر عملدرآمد میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی اس وقت مارکیٹ میں چھوٹا گوشت 800روپے کی سرکاری قیمت کی بجائے 1200سے1250روپے فی کلو ،بڑا گوشت400روپے کی سرکاری قیمت کی بجائے650 سے900 روپے فی کلو گرام ،ڈالڈا کوکنگ آئل 295 روپے فی لٹر، تیسرے درجے کاٹماٹر 80 سے 100 روپے فی کلو، چائنہ تھوم (لہسن) 175 روپے فی کلو کی بجائے250 روپے فی کلو گرام لیموں کی بجائے کھٹیاں 350 سے400 روپے فی کلو گرام، مٹر 150روپے کی بجائے 250روپے کلو،کدو 80 روپے فی کلو گرام، آلو50 سے70 اور پیاز 40 سے60 روپے فی کلو گرام فروخت ہو رہا ہے اسی طرح دیگر تمام اقسام کی سبزیوں کی قیمتوں میں بھی30 سے 50 فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے جبکہ پھلوں کی قیمتوں میں اضافے کے تحت مختلف اقسام کے سیب 100سے 150روپے کے مقررہ نرخوں کی بجائے150سے300روپے فی کلو گرام ، انگور 350 روپے فی کلواور کیلا40 سے70روپے فی درجن سرکاری نرخوں کی بجائے 150سے 200روپے فی درجن فروخت کیا جا رہا ہے جبکہ مارکیٹ کمیٹی کی جانب سے بیشتر سبزیوں اور پھلوں کے سرکاری ریٹ جاری ہی نہیں کئے جاتے اور نہ ہی کریانہ و جنرل سٹور کو ریٹ لسٹیںآویزاں کرنے کا پابند بنایا جاتا ہے جس سے پرچون فروش من مانے نرخوں پر اشیا فروخت کر رہے ہیں یہاں یہ امر قابل ذکر ہے یہاں دیئے گئے ریٹ ضلعی انتظامیہ کی نگرانی میں مارکیٹ کمیٹی کی جانب سے درجہ اول کے پھلوں اور سبزیوں کے لئے جاری کئے جاتے ہیں لیکن پرچون فروش من مانے اور مہنگے داموں میں شہریوں کو غیرمعیاری اور گلی سڑی سبزیاں اور پھل مکس کر کے فروخت کرتے ہیں اسی طرح طرح درزیوں نے بھی مردانہ سوٹ کی سلائی ڈی سی کے مقرر کردہ ریٹ600کی بجائے1100روپے تک بڑھا دی اس حوالے سے شہریوں نے’’ آن لائن‘‘ کو بتایا کہ مارکیٹ کمیٹی کی جانب سے جاری سرکاری لسٹ دوپہر12بجے دکانداروں کو فراہم کیجاتی ہے اس دوران سبزی و پھل فروش مرضی کے نرخوں سے اپنی دیہاڑیاں لگا لیتے ہیں جبکہ سرکاری ریٹ لسٹوں پر دیئے گئے تال فری نمبر پر شکائیت خود کو ایک نئی اذیت میں مبتلا کرنے کے مترادف ہے اگر مارکیٹ کمیٹی کو قیمتوں کے حوالے سے شکائیت کی جائے تو وہ ریٹ لسٹ پر دیئے گئے ٹول فری پر نمبر پر رابطے کامشورہ دے کر فون بند کر دیتے ہیں جبکہ ٹول فری نمبر پر طویل انتظار(ہولڈ)کے دوران میوزک سننے کے بعد شہری تنگ آکر خود ہی کال بند کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور اگر خوش قسمتی سے کال اٹینڈ ہو جائے تو اس پر کوئی کاروائی نہیں کی جاتی نہ ہی شکائیت کنندہ کو اس میں کسی قسم کی پیش رفت سے آگاہ کیا جاتا ہےشہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب ، کمشنر اور ڈپٹی کمشنرراولپنڈی سے مطالبہ کیا ہے کہ گنجان شہری علاقوں میں خود ساختہ طور پر بڑھائی گئی قیمتوں کا از خود جائزہ لیں مہنگائی کا سبب بننے والے پرچون فروشوں کے ساتھ غفلت کے مرتکب ضلعی انتظامی افسران کے خلاف کاروائی کا حکم دیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں