19

بچوں کی تعلیمی کارکردگی اور والدین کا کردار

بچوں کی تعلیمی کارکردگی اور والدین کا کردار

آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ آپ کے بچے کو اسکول کی کوئی پروا نہیں اور وہ پڑھائی اور ہوم ورک سے جی چراتا ہے؟ نتیجہ؟ اُس کے نمبر کم آنے لگتے ہیں۔ ایسے میں آپ اپنے بچے کی تعلیمی کارکردگی کو بہتر بنانے میں اُس کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟

مدِنظر رکھنے والی باتیں

سب سے پہلے ایک بات آپ پر واضح ہونی چاہیے کہ بچے پر دباؤ ڈالنے سے مسئلہ بڑھتا ہے۔ اگر آپ بچے پر پڑھائی کرنے کا دباؤ ڈالیں گے تو وہ اسکول اور گھر میں پریشانی کا شکار ہو جائے گا۔ شاید وہ اپنی پریشانی سے چھٹکارا پانے کے لیے آپ سے جھوٹ بولے، اپنے کم نمبر چھپائے، رپورٹ کارڈ پر آپ کے جعلی دستخط کرنے کی کوشش کرے یا اسکول سے غیرحاضر رہے۔ یوں مسئلہ اور بگڑ جائے گا۔

اِنعام کا لالچ دینے سے نقصان ہوتا ہے: اینڈریو نامی والد کہتے ہیں، ‏’’ہم چاہتے تھے کہ ہماری بیٹی پڑھائی پر توجہ دے، اِس لیے جب بھی وہ اچھے نمبر لاتی، ہم اُسے انعام دیتے۔ لیکن ہماری اِس کوشش کا اُس پر اُلٹا اثر ہوا۔ ہم نے دیکھا کہ اُس کا سارا دھیان صرف اِنعام پانے پر رہتا تھا۔ جب بھی اُس کے کم نمبر آتے تو اسے اس بات کا اتنا دکھ نہیں ہوتا تھا جتنا کہ انعام نہ ملنے کا‘‘۔

استادوں کو موردِ الزام ٹھہرانے سے بچے کا بھلا نہیں ہوگا: اگر آپ اپنے بچے کی کوتاہیوں کے لیے استادوں کو قصوروار ٹھہرائیں گے تو ہو سکتا ہے کہ بچہ یہ سوچنے لگے کہ اچھے نمبر حاصل کرنے کے لیے اُسے خود محنت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ 

اِس طرح شاید وہ اپنی غلطیاں اوروں کے سر ڈالنا سیکھے گا اور دوسروں سے یہ توقع کرے گا کہ وہ اُس کی مشکلات کا حل ڈھونڈیں۔ دوسرے لفظوں میں کہیں تو آپ کا بچہ زندگی کی ایک اہم بات سیکھنے سے محروم رہ جائے گا جو آگے چل کر اس کے کام آئے گی یعنی یہ کہ وہ اپنے کاموں کا خود ذمہ دار ہے۔

آپ کیا کر سکتے ہیں؟

اپنے جذبات پر قابو رکھیں: اگر بچے کے بُرے نمبر دیکھ کر آپ کا پارہ چڑھ جاتا ہے تو بہتر ہوگا کہ آپ غصے کی حالت میں اُس سے اِس موضوع پر بات نہ کریں۔ اس سلسلے میں بریٹ نامی والد کہتے ہیں، ’’میں نے اور میری بیوی نے دیکھا ہے کہ جب ہم ٹھنڈے ہو کر شفیق انداز میں بچوں سے بات کرتے ہیں تو اِس کا زیادہ فائدہ ہوتا ہے‘‘۔ اپنے بچوں سے بات کرتے وقت، والدین کو ایک اصول اپنا لینا چاہیے، ’’بچوں کی ہر بات سننے میں جلدی کریں لیکن بولنے میں جلدی نہ کریں اور غصہ کرنے میں جلدبازی نہ کریں‘‘۔

اصل مسئلے کو پہچانیں: بچے کے بُرے نمبر آنے کی عموماً کچھ وجوہات ہو سکتی ہیں جیسے کہ شاید اسکول میں شرارتی بچے اُسے تنگ کرتے ہیں؛ اُس کاا سکول بدل دیا گیا ہے؛ اُسے امتحانات سے ڈر لگتا ہے؛ گھر میں کوئی مسئلہ چل رہا ہے؛ اُس کی نیند پوری نہیں ہوتی؛ اُس کے ہوم ورک کرنے کا کوئی معمول نہیں ہے یا اُسے ٹک کر پڑھنا مشکل لگتا ہے۔ وجہ چاہے کچھ بھی ہو، فوراً یہ نہ سوچ لیں کہ آپ کا بچہ کاہل ہے۔

ایسا ماحول بنائیں، جس میں بچہ توجہ سے پڑھ سکے۔ بچے کے ساتھ مل کر ہوم ورک کرنے کا شیڈول بنائیں۔ بچے کے ہوم ورک کرنے کے لیے ایسی جگہ کا انتخاب کریں، جہاں کوئی ایسی چیز نہ ہو، جس سے اس کا دھیان بھٹک سکے، مثلاً ٹی وی یا موبائل وغیرہ۔ بچے کی توجہ پڑھائی پر رکھنے کے لیے ہر مضمون پر تھوڑا تھوڑا وقت صرف کریں۔ جرمنی میں رہنے والے ہیکٹر نامی والد کی بات پر ذرا غور کریں۔ وہ کہتے ہیں:‏ ‏’’اگر ہمارے بچے کا کوئی ٹیسٹ آنے والا ہوتا ہے تو ہم اِس کے سر پر آنے کا اِنتظار نہیں کرتے بلکہ ہر دن اُسے اِس کی تھوڑی تھوڑی تیاری کرواتے ہیں‘‘۔

بچے پر پڑھائی کی اہمیت کو واضح کریں: جتنا زیادہ آپ کا بچہ اِس بات کو سمجھے گا کہ اُسے ابھی اسکول جانے سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے اُتنا ہی زیادہ اس میں پڑھنے کا شوق بڑھے گا۔ مثال کے طور پر ریاضی کے مضمون کی مدد سے وہ سیکھے گا کہ وہ اپنے جیب خرچ کا حساب کیسے رکھ سکتا ہے۔ بچے پر واضح کریں کہ تعلیم کی مدد سے ہی وہ حکمت اور فہم حاصل کرسکتا ہے۔

تجویز

‏ اپنے بچے کی ہوم ورک کرنے میں تو مدد کریں لیکن خود اس کا ہوم ورک نہ کریں۔ اینڈریو کہتے ہیں:‏ ‏’’جب ہم اپنی بیٹی کو اس کا ہوم ورک کرواتے ہیں تو وہ اپنا دماغ نہیں لڑاتی بلکہ سب کچھ ہم پر چھوڑ دیتی ہے‘‘۔ اپنے بچے کو سکھائیں کہ وہ خود اپنا ہوم ورک کیسے کر سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں