69

واقعہ کربلا حق و باطل کا معرکہ تحریر رمشا ظفر

واقعہ کربلا حق و باطل کا معرکہ

تحریر رمشا ظفر
اسلامی تاریخ میں واقعہ کربلا سے پہلے یا بعد کوئی ایسا دل سوز واقعہ نہیں گزرا جسے برسوں یاد رکھا گیا ہو واقعات رونما ہوتے ہیں اور کچھ عرصہ بعد تاریخ کے اوراق میں گم ہو جاتے ہیں ہر سال نہ تو ان کی یاد منائی جاتی ہے اور نہ ہی آنسو بہائے جاتے ہیں یہ امتیاز صرف واقعہ کربلا کو حاصل ہے دنیا بھر میں نواسہ رسول امام حسین علیہ اسلام کی اس عظیم قربانی کی یاد منائی جاتی ہے واقعہ کربلا حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بن گیا ہے ظلم اور بربریت کے خلاف اس کی مثال رہتی دنیا تک دی جاتی رہے گی یزید اپنے کردار اور اہلیت کے لحاظ سے اس قابل نہیں تھا کہ اسے اقتدار سونپا جائے حالات کو دیکھتے ہوئے اہل کوفہ نے ہزاروں کی تعداد میں خطوط لکھے اور امام حسین ابن علی کو کوفہ آنے اور حالات کا جائزہ لینے کی دعوت دی یزید کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان ہے ۔ کہ یہ پہلا شخص ہوگا جو عدل و انصاف کے نظام کو تباہ کرے گا حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ (ص ) نے فرمایا میری امت کا امر (حکومت ) عدل کے ساتھ قائم رہے گا یہاں تک کہ پہلا شخص جو اسے تباہ کرے گا وہ بنی امیہ میں سے ہوگا کربلا میں جنگ نہیں ظلم ہوا تھا کسی اقتدار کے حصول کے لیے نہیں امام حسین علیہ اسلام اسلامی اصولوں اور اقدار کی بقا و بحالی کے لیے میدان کربلا میں اترے تھے رسول اللہ (ص ) اور خلفائے راشدین نے جو اسلامی حکومت قائم کی تھی اس کی بنیاد انسانی حاکمیت کی بجائے اللہ تعالی کی حاکمیت کے اصول پر رکھی گئی تھی اور اس نظام کی روح شورائیت میں پنہاں تھی یزید اپنی حکومت اس اصول یعنی ( اللہ کی حاکمیت )کی بجائے اپنی بادشاہت پر قائم کرنا چاہتا تھا امام حسین علیہ اسلام کی میدان کربلا میں صف آرائی درحقیقت اسلام کے مزاج میں تغیر وتبدل کے خلاف ایک ایسی مزاحمت تھی جو تاقیامت حق و باطل کے امتیاز کو واضح کرتی رہے گی آپ نے اپنے کردار اور عمل سے حق کی آواز کو بلند کرنا اور اسلامی اقدار کا تحفظ سکھایا امام حسین کی جدوجہد ظلم کے خلاف سینہ سپر ہونے کا ابدی پیغام ہے حق بات کہنے سے اس لیے پیچھے نہ ہٹو کے سامنے والا طاقتور ہے چار ہزار یزیدی لشکر کے سامنے 72 افراد پر مشتمل حسینی لشکر کا ڈٹ جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگیں ہمت ، حوصلے اور جواں مردی سے لڑی جاتی ہیں اور جب ظلم بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے وراثت میں جنت اور رسالت کی گود میں پلنے والے امام حسین علیہ اسلام اگر چاہتے تو آپ کی ایک دعا سے کربلا کا نقشہ بدل جاتا یزیدی لشکر تہس نہس ہوجاتا لیکن آپ کی شہادت مطلوب و مقصود تھی کیونکہ اس کی بشارت آپ کے نانا نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم پہلے ہی دے چکے تھے دین اسلام کی سربلندی کے لیے باطل قوتوں کے سامنے ڈٹ جانے کا پیغام دینا بھی ضروری تھا آپ نے اپنے ساتھیوں سے کہا میرا مقصد کسی اقتدار کا حصول نہیں اس جنگ کا انجام دردناک ہوسکتا ہے اور اگر کوئی مجھے چھوڑ کر جانا چاہتا ہے تو جا سکتا ہے سب نے اپ کی آواز پر لبیک کہا دین کی عظمت و بقا کے لیے جدوجہد اور جہاد اسوہ پیغمبری اور انسانی ضمیر کے زندہ ہونے کی علامت ہے آج جس طرح کشمیر ، فلسطین ، برما ، عراق و شام میں مسلمانوں پر ظلم ہو رہا گولیاں برسائئ جارہی ہیں انھیں عبادت گاہوں میں جانے سے روکا جا رہا ہے زندگی ان پر تنگ کی جا رہی ہے اس فرعونیت کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے آج پھر اسی جذبہ حسینی کی ضرورت ہے مگر افسوس مسلم ممالک کا اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ وہی کوفیوں والی منافقت ہے جیسے کوفیوں کے دل تو امام حسین علیہ اسلام کے ساتھ تھے اور تلواریں یزید کے ساتھ آج مسلم ممالک کے پاس دولت طاقت سب کچھ ہے وہ کشمیریوں اور فلسطینیوں پر ہونے والے ظلم کی صرف مذمت کرتے ہیں ان کے لیے عملی اقدامات کرنے کی بجائے بھارت اور اسرائیل کے ساتھ مسلم ممالک اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں جب انسانیت ظلم کی چکی میں پس رہی ہو اس وقت ہر ذی شعور صاحب ایمان کا فرض بنتا ہے کہ وہ ظلم کے خلاف کلمہ حق بلند کرے امام حسین علیہ اسلام کی زندگی اور ان کے سفر کربلا سے تو ہمیں یہی سبق ملتا ہے تاریخ میں وہی لوگ زندہ رہتے ہیں جو ظالم اور جابر قوتوں کے سامنے سر جھکانے کی بحائے سر کٹانے کو ترجیح دیتے ہیں اور اس کا واضح ثبوت واقعہ کربلا ہے جو صدیوں گزر جانے کے باوجود لوگوں کے ذہنوں میں آج بھی تروتازہ ہے اور سلطان کربلا امام حسین علیہ اسلام کی اعزاداری کا سلسلہ جاری ہے

سر داد نہ داد دست در دست یزید
حقا کہ بنائے لا الہ است حسین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں