11

کینگروز اور کیویز پہلی بار ٹرافی شوکیس میں سجانے کیلئے پُرعزم

کینگروز اور کیویز پہلی بار ٹرافی شوکیس میں سجانے کیلئے پُرعزم

شائد یہ کسی کے وہم و گمان میں نہ تھا کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا فائنل آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کےدرمیان اتوار کو کھیلا جائے گا۔ کینگرو اور کیویز ٹرافی شوکیش میں سجانے کے لئے پر عزم ہیں،آسٹریلیا نے2010میں پہلی بار فائنل کھیلا ، اسے برج ٹاون بارباڈوس میں روایتی حریف انگلینڈ نے فائنل میں شکست دی۔نیوزی لینڈ کی ٹیم پہلی بار فائنل میں پہنچی ہے۔

اگر آپ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے درمیان سفر کریں تو ٹرانس سمندر پر گذرنا پڑتا ہے اس لئے اس سمندری علاقے کو ٹرانس تسمان کہا جاتا ہے۔پانچ بڑی ایشیا ئی ٹیموں پاکستان،بھارت،سری لنکا،بنگلہ دیش اور افغانستان کی موجودگی میں آسٹریلیا نیوزی لینڈ کا فائنل میں پہنچنا حیران کن بات ہے۔آسٹریلیا کے خلاف سیمی فائنل میں شکست سے قبل پاکستانی ٹیم 2017سے متحدہ عرب امارات میں 16ٹی ٹوئینٹی انٹر نیشنل جیت چکی تھی۔

لیکن مضبوط اعصاب والی آسٹریلوی ٹیم نے پاکستان کو تیسرے فائنل میں کھیلنے سے محروم کردیا۔ دبئی میں فائنل جیتنے والی ٹیم سولہ لاکھ امریکی ڈالرز کی حقدار ہوگی۔ جبکہ رنرز اپ ٹیم کو آٹھ لاکھ ڈالرز ملیں گے۔ پاکستان اور انگلینڈ کو سیمی فائنل ہارنے پر چار چار لاکھ ڈالرز ملے۔ تین ہفتے تک شائقین کو تفریح فراہم کرنے والی پاکستانی ٹیم سیمی فائنل پانچ وکٹ سے ہار کر ٹورنامنٹ سے باہر ہوگئی لیکن لگاتار پانچ میچ جیتنے کے دوران پاکستان نے شاندار کارکردگی دکھائی۔

شائد ٹورنامنٹ سے پہلے اس کارکردگی کی کسی کو توقع نہ تھی بھارت کو دس وکٹ کی شکست سے دوچار کرنے کے بعد پاکستان نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے درمیان 2015 میں پچاس اوورز ورلڈ کپ کا فائنل میلبورن میں کھیلا گیا تھا جس میں آسٹریلیا فاتح رہا تھا۔2019میں لارڈز میں انگلینڈ نے نیوزی لینڈ کو شکست دے کر ورلڈ کپ جیتا تھا ۔ اس لئے نیوزی لینڈ کی ٹیم ٹورنامنٹ پہلی بار جیتنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگادے گی۔

سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ نے عالمی نمبر ایک انگلینڈ کو جس طرح شکست دی اس کے بعد لگ رہا ہے کہ فائنل میں گھمسان کا رن پڑے گا۔آسٹریلیا نے آئی سی سی ایونٹ کے ناک آوٹ مرحلے میں پاکستان سے نہ ہارنے کا ریکارڈ قائم رکھتے ہوئے نا قابل شکست پاکستان کو پانچ وکٹ سے شکست دی اور فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل کرلیا۔ پاکستان نے ایک نوجوان ٹیم اور نوآموز کپتان بابر اعظم کے ساتھ زبردست کرکٹ کھیل کر ان چار بہترین میں جگہ بنائی جہاں وہ واحد ایشین ٹیم تھی۔ 

بابر اعظم کے لئے یہ ٹورنامنٹ خاصا سبق آموز رہے گا اور گیارہ ماہ بعد آسٹریلوی سرزمین پہ جب وہ ٹائٹل کی دوڑ میں اتریں گے تو یہ تجربہ بہت کام آئے گا۔حسن علی کا پورا ٹورنامنٹ خراب گیا انہوں نے44رنز دیئے اور اہم وقت پر کیچ چھوڑ کر میچ کو آسٹریلیا کے حق میں کردیا۔ پاکستان نےچار وکٹ پر176رنز بنائے آسٹریلیا نے ہدف ایک اوور پہلے حاصل کر لیا۔ پاکستانی اننگز میں محمد رضوان نے جس طرح بیٹنگ کی اور وہ دو راتیں دبئی کے اسپتال میں گذار کر میچ کھیلنے آئے ان کی بہادری اور ہمت کو جتنی داد دی جائے وہ کم ہے۔

رضوان نے سینے میں انفکشن کی وجہ سے اسپتال میں دو راتیں گذاریں، پاکستانی ٹیم انتظامیہ ان کی بیماری کو چھپا کر غلط رنگ دیتی رہی لیکن فائٹر رضوان نے گراونڈ میں آکر پھر فرنٹ سے لیڈ کیا۔ دبئی میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے درمیان فائنل کھیلا جائے گا۔حسن علی نے19ویں کی تیسری گیند پر میتھیو ویڈ کا کیچ ڈراپ کردیا۔ اس کے بعد شاہین نے ہمت ہار دی ،ویڈ نے شاہین آفریدی کو اگلی تین گیندوں پر تین چھکے مارنے کے بعد مشکل دکھائی دینے والی جیت کو آسان کردیا۔

آسٹریلیا نے دوسرے فائنل کے لئے کوالی فائی کیا ہے۔ پاکستان پہلا میچ ہارنے کے ساتھ ٹورنامنٹ سے باہر ہوگئی۔ آسٹریلوی ٹیم گیارہویں بار کسی آئی سی سی ایونٹ کے فائنل میں پہنچی ہے۔مارکوس اسٹونس نے31گیندوں پر40رنز کی نا قابل شکست اننگز کھیلی جس میں دو چھکے اور دو چوکے شامل تھے۔دونوں کی میچ وننگ شراکت میں40 گیندوں پر81رنز بنے۔ شاداب خان نے ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ کے تمام سیمی فائنلز کی بہترین بولنگ کی۔ شاداب نے 26 رنز دے کر چار کھلاڑیوں کو آوٹ کیا اس سے قبل ورلڈ ٹی ٹوینٹی سیمی فائنلز کی بہترین بولنگ عمر گل نے 2007میں پندرہ رنز دے کر تین وکٹیں لی تھیں۔ ڑے ایونٹ کے ہائی پریشر میچز میں ایک ایک گیند قیمتی ہوتی ہے۔ ہر شاٹ اہم ہوتا ہے۔ ہر فیلڈ موومنٹ کی اہمیت ہوتی ہے۔ 

بلاشبہ آسٹریلیا اس جیت کا حقدار تھا س نے پریشر میں وہ کرکٹ کھیلی جو آسٹریلوی کرکٹ کا خاصہ تھا۔ اگر حسن علی کیچ ڈراپ نہ ہوتا تو صورت حال مختلف ہوتی۔ حسن علی نے ایسا پہلی بار نہیں کیا چند ماہ قبل کنگسٹن جمیکا میں انہوں نے ویسٹ انڈیز کے کیماروچ کا ایسا ہی کیچ ڈراپ کیا تھا اور پاکستان ٹیسٹ میچ ایک وکٹ سے ہار گیا تھا۔ حسن علی کو اپنی فیلڈنگ کے ساتھ اپنی اداوں پر بھی غور کرنا ہوگا۔

سیمی فائنل ہارنے کے بعد پاکستانی کھلاڑی روتے ہوئے گراونٖڈ سے باہر آئے اور ڈریسنگ روم میں بھی سوگ کا ماحول تھا۔ماضی میں اکثر پاکستان جب بھی کوئی ایسا بڑا میچ ہارا ہے تو کسی نہ کسی کھلاڑی پر انگلیاں ضرور اٹھائی گئیں، ہر شکست سے سازشی مفروضے تلاش کئے گئے لیکن اس بار ہار کر بھی شائقین اپنی ٹیم سے خوش ہیں۔میچ کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ڈریسنگ روم میں بیٹھے کھلاڑیوں سے بات چیت کی اور انھیں رنجیدہ ہونے کے بجائے مستحکم ہونے کا سبق دیا۔

اس ویڈیو، جو کہ بظاہر میچ ختم ہونے کے بعد ٹیم کے ڈریسنگ روم میں فلم بند کی گئی، میں ٹیم ٹاک کا منظر پیش کیا گیا ہے۔ اس میں پاکستان ٹیم کے کپتان اور کوچز کے ارکان باری باری لڑکوں سے بات کرتے ہیں اور مختلف موقعوں پر ٹیم کے اراکین کا ردعمل بھی دکھایا گیا ہے۔ ظاہر ہے، زیادہ تر کے چہروں پر دکھ کے آثار نمایاں ہیں۔

کپتان بابر اعظم نے کہا کہ سارے مثبت بات کریں، کوئی منفی بات نہیں۔ ہار گئے ہیں، ہاں ہار گئے ہیں، کوئی مسئلہ نہیں لیکن سیکھیں گے اس سے۔ آگے جو آئے گی کرکٹ اس میں ہم یہ چیزیں نہیں دہرائیں گے۔انہوں نے ٹیم کے درمیان پیدا ہونے والی کیمسٹری کی، جس کا ذکر اس ٹورنامنٹ میں اکثر کمنٹیٹر، شائقین اور تجزیہ کاروں سے سننے کو ملا ہے، تعریف کرتے ہوئے تاکید کی کہ اسے ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے،’یہ چیز ٹوٹے نہ۔ ہم نے بڑی مشکل سے۔ 

وقت لگتا ہے بھائیوں، یہ جوڑ جو ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے۔ ایک ہار سے کوئی بھی نکلے نہ اس میں سے۔ میں سب کو بیک کرتا ہوں، بطور کپتان مجھے جس طرح آپ لوگوں نے رسپانس دیا، اندر باہر جہاں بھی۔ سب نے ’بہت اچھا فیملی والا ماحول رکھا، سب نے ہمت کی، کسی نے نہیں کہا کہ میں ہاتھ کھینچ لوں، میں یہ کر لوں میں وہ کر لوں۔۔۔ ہر میچ میں ہر بندے نے ذمہ داری لی ہے اور یہی چاہیے ہوتا ہے کسی بھی ٹیم سے، کبھی ہاتھ نہ کھینچو۔ ہمت کرو، کہتے ہیں ہمت ہمارے ہاتھ میں ہے اور وہ ہم کریں گے۔ نتیجہ ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے۔ جیسے جیسے آپ ہمت کرتے رہیں گے نتائج ہمارے ہاتھ میں آتے رہیں گے۔کوئی نہ گرے۔ 

مجھے پتہ ہے سب کو دکھ ہے لیکن یہ تھوڑی دیر تک۔ سوچو ہم کہاں غلط تھے اور کہاں ہم اچھا کر سکتے تھے۔ کوئی گرا نظر نہ آئے، ایک دوسری کو اٹھاؤ۔ یہی وقت ہوتا ہے ایک دوسرے کو اٹھانے کے لیے۔ کھینچنا کسی نے نہیں ہے۔بابر اعظم نے ذرا لہجہ سخت کرتے ہوئے کہا: ’جس سے بھی میں نے (ایسا کچھ) سن لیا، پھر میں کچھ اور بات کروں گا اس سے۔ کوئی بھی کسی کے بارے میں کوئی بات نہیں کرے گا۔س طرح چلتا آ رہا ہے ویسا ماحول رکھو، ایک دوسرے کو اٹھاؤ اور لطف لو۔ سیکھو۔ جتنا جلدی ہم اسے اوور کم کریں گے اتنا اچھا ہے۔

ہیڈ کوچ ثقلین مشتاق کو اچانک ٹیم ملی،مصباح الحق کے برعکس انہوں نے بھی ماحول کو اچھا رکھا ہوا تھا کہتے ہیں کہ’وِن آر لوز (ہار یا جیت)، یہ جو لفظ ہیں کسی نے ایسے ہی بنا دیے ہیں۔ وِن اینڈ لرن (سبق اور جیت)۔ اپنی جیت سے جو اچھی یادیں وابستہ ہیں انھیں محفوظ کرو اور شیئر کرو کہ تم لوگ کیسے لڑے اور ایک دوسرے کے ساتھ سے کیسے لطف اندوز ہوئے اور کیسے ایک دوسری کو سپورٹ کیا۔ تمام کھلاڑیوں کو اس پر خوش ہونا چاہیے کہ وہ ادھر سے سیکھ کر کیسے جا رہے ہیں۔ ’مراد یہ ہے تم لوگ دوست ہو، تمہاری دوستی اور زیادہ بڑھے، تمہارے جوڑ میں اور زیادہ جوڑ آ جائے، تمہارے دل اور متحد ہوں۔ تمہارا ایک دوسرے پر یقین اور بڑھے، یہ سیکھ کر جاؤ۔

جیسے میتھیو ہیڈن نے کہا، اپنے سر بلند رکھو۔ یہ گیم کا حصہ ہے اور ہم نے آگے بڑھتے چلے جانا ہے۔ پاکستانی ٹیم اپنی اگلی منزل پر اب بنگلہ دیش میں ہے اور بنگلہ دیش کو ورلڈ کپ کے پانچوں گروپ میچوں میں شکست ہوئی ہے۔پاکستانی ٹیم کو بنگلہ دیش کی مشکل وکٹوں پر ورلڈ کپ والی کارکردگی کو برقرار رکھنا ہو تاکہ یہ نہ لگے کہ ورلڈ کپ میں تکا لگ گیا۔آج رات دبئی میں جو بھی چیمپین بنے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کو اب بلندیوں کی جانب پرواز کرکے کارکردگی کے تسلسل کو قائم رکھنا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں