23

نیب عدالت نے مشکوک ٹرانزیکشن کیس میں آصف علی زرداری پر فرد جرم عائد کرنے سے روک دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) نے احتساب عدالت کو 8.3 ارب روپے کی مشکوک ٹرانزیکشن کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری پر آئندہ سماعت تک فرد جرم عائد نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) نے 8.3 ارب روپے کی مشکوک ٹرانزیکشن کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری پر فرد جرم عائد کرنے کے احتساب عدالت کے فیصلے پر حکم امتناعی میں توسیع کردی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس عامر فاروق نے آصف علی زرداری کی جانب سے احتساب عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی درخواست کی سماعت کی۔ درخواست میں احتساب عدالت، قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین اور مرکز کو فریق بنایا گیا تھا۔

فاروق ایچ نائیک زرداری کی نمائندگی کے لیے عدالت میں پیش ہوئے جب کہ اینٹی کرپشن واچ ڈاگ کی نمائندگی ناصر محمود مغل نے کی۔

سماعت کے دوران نیب نے اپنا تحریری جواب اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرادیا۔

نائیک نے عدالت کو بتایا کہ احتساب عدالت نے ریفرنس میں بریت کی درخواست مسترد کردی۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ احتساب عدالت کا حکم کالعدم قرار دیا جائے۔

فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو بتایا کہ وہ نیب کے تحریری جواب کا جائزہ لینے کے بعد کیس میں دلائل دیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں