29

پانی ضائع ہونے سے بچائیں

پانی ضائع ہونے سے بچائیں

پانی کی قلت دور جدید کا ایک ا ہم مسئلہ ہے۔ ملکی آبادی میں اضافہ اور ذخیرہ شدہ پانی کی سطح میں کمی مشکلات میںا ضافہ کا سبب بن رہی ہے۔ اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو بچے، بوڑھے اور جوان سبھی خالی کین اٹھائے،پانی کی تلاش میں سرگرداں نظر آتے ہیں۔ پانی کی کمی کے مسئلہ کا حل حکومتی ذمہ داری اور موسمیاتی تبدیلیوں پر قابو پانے کے علاوہ انفرادی طور پر ہر ایک شخص کا ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا بھی ہے۔ پانی کی قلت جیسے مسائل پر قابو پانے کے لیے ہم سب پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے، آج کی تحریر میں یہی جاننے کی کوشش کی جارہی ہے۔

پانی کی کمی، ایک عالمی مسئلہ

پاکستان سمیت دنیا بھر کے بیشتر ممالک کو پانی کی قلت کا سامنا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کے ایک چوتھائی ممالک پانی کی کمی کا شکار ہیں۔ یہ ایک ایسا عالمی مسئلہ ہے، جس کی جانب گزشتہ کئی برسوں سے ماہرین توجہ مبذول کروارہے ہیں ۔ اقوام متحدہ کے مطابق2030ء تک دنیا بھر میں پانی کی طلب میں40فیصد اضافہ کا امکان ہے۔ پاکستان کے حوالے سے تو یہاں تک پیشن گوئی کی جارہی ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو پاکستان 2025ء تک قحط سالی کا شکا رہوجائے گا۔ 

اس حوالے سے ملک میں جہاںایک سے زائد بڑے ڈیمز کی تعمیر وقت کی اشد ضرورت ہے، و ہیں گھریلواور صنعتی سطح پر پانی کی بچت بھی بے حد ضروری ہے لیکن ہم اس کے برعکس پانی کا بے جا ضیاع کرتے ہیں اور اس حوالے سے کبھی خود کو مورد الزام نہیں ٹھہراتے یا شاید ہمیں احساس ہی نہیں کہ ہم قدرت کی عطا کردہ اس بیش بہا نعمت کو ضائع کررہے ہیں۔ اس حوالے سے ہر عمر کے افراد پر بنیادی اور اخلاقی ذمہ دار عائد ہوتی ہے۔

برتنوں کی دھلائی

گھروں میں برتن صاف کرتے اور صابن لگاتے وقت اکثر نل کھلا چھوڑدیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے کافی پانی ضائع ہوتا ہے۔ برتنوں کی صفائی یا مانجھتے وقت نل بند رکھیں اور اسے صرف تب ہی کھولیں جب انھیں دھونا ہو۔ اس طرح آپ روزانہ کی بنیاد پر کئی لیٹر پانی بچا سکتے ہیں۔

شاور

ایک رپورٹ کے مطابق، عام شاور لینے کے دوران ایک منٹ میں 5سے 7گیلن پانی خرچ ہوجاتا ہے، جب کہ بیشتر افراد کو دیر تک شاور لینے کی عادت ہوتی ہے، جس کے باعث کئی گیلن پانی ضائع ہوجاتا ہے۔ لہٰذا پانی کی بچت کرنے کے لیے شاور کا دورانیہ مختصر کردیں۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں شاور کا دورانیہ5سے7منٹ مقرر کیا گیا ہے۔ 

آج کل مارکیٹ میں واٹر سیونگ شاور دستیاب ہیں جو کہ قدرے مہنگے ہوتے ہیں لیکن ان شاور میں پانی کا بہاؤ کم ہوتا ہے۔ اگر آپ یہ شاور اپنے باتھ روم میں نصب کردیں تو کم ازکم ایک منٹ میں تین گیلن پانی بچایا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ غسل کے لیے شاور کے بجائے عام بالٹی کا استعمال بھی آپ کو روزانہ کی بنیادوں پر کئی گیلن پانی بچانے میں مدد دے سکتاہے۔

دانت کی صفائی اور شیونگ

دانت کی صفائی کے دوران اکثر لوگ پانی کا نلکا کھلا چھوڑ دیتے ہیں جو پانی کے ضیاع کا سبب بنتا ہے۔ اس عمل میں پانی کے استعمال کا خاص خیال رکھیں، مثلاًبرش کرتےوقت نلکا کھلا رکھنے کے بجائے ،گلاس میں پانی بھر کر استعمال کریں۔ اسی طرح شیونگ کے دوران، ریزر کرتے وقت کسی کپ میں پانی بھرلیں، یہ چھوٹی چھوٹی احتیاط دن بھر میں 6لیٹر پانی کی بچت کا باعث بن جائے گی۔

ٹوائلٹ ٹینک

ٹوائلٹ ٹینک کی لیکیج روزمرہ بنیادوں پر کئی کئی گیلن پانی کے ضیاع کا سبب بنتی ہے۔ لیکیج کا پتہ لگانے کے لیے اپنے ٹوائلٹ ٹینک میں چند قطرے کلر کے ڈالیں۔ اگر کلر پھولے بغیر ٹینک کی سطح پر ظاہر ہونا شروع ہوجاتا ہے تو سمجھ جائیں کہ آپ کا ٹوائلٹ ٹینک روزانہ کم ازکم 100گیلن پانی ضائع کرنے کا سبب بن رہا ہے۔

کچھ افراد ٹوائلٹ کو ایش ٹرے یا کچرا دان کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور اس میں ٹشو یا سگریٹ ڈال دیتے ہیں۔ بعد میں اسے بہانے کے لیے اضافی طور پر فلش کیاجاتا ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں آپ کے یہ ٹشو یا پھر ڈالے گئے سگریٹ روزانہ 5سے 7 گیلن پانی ضائع ہونے کا باعث بنتے ہیں؟

باغیچہ میں پانی دینا

مشرقی ممالک میں گھروں میں استعمال ہونے والا تمام پانی گٹر میں جاتا ہے جو کہ ضائع ہوجاتا ہے۔ ہمارے یہاں عمارتوں کا نقشہ بناتے ہوئے اس بات پر توجہ نہیں دی جاتی کہ صاف پانی کا مناسب اور دوبارہ استعمال یقینی بنایا جائے۔ مثال کے طور پر کچن کا پانی، غسل کا پانی، کپڑے دھونے کا پانی، گیراج کا پانی وغیرہ مناسب منصوبہ بندی کے ساتھ گھاس یا باغیچے کو پانی دینے کے کام آسکتا ہے۔ 

دوسری جانب ہم پودوں کو عام طور پرپائپ سے پانی دیتے ہیں مگر اس سے ایک گھنٹے میں کم ازکم ایک ہزار گیلن پانی استعمال ہوجاتا ہے۔ اس کے بجائے پودوں پر پانی کا چھڑکاؤ کرنے یا انھیں پانی دینے کے لیے واٹر کین کا استعمال کریں۔ یہ عمل بھی پانی کی بچت کرے گا۔

نلوں اور پائپس کی لیکیج

پانی ضائع ہونے سے بچانے کے لیے نلوں اور پائپس کی لیکیج کی طرف دھیان دینا بھی ضروری ہے۔ لیکیج 24گھنٹے پانی کے ضیاع کا سبب بنتا ہے، لہٰذا جیسے ہی کہیں کوئی لیکیج دیکھیں تو کسی پلمبر کی خدمات حاصل کرکے جلد از جلد مرمت کروالیں تاکہ پانی ضائع ہونے سے بچ جائے۔

بارش کا پانی محفوظ کریں

بیرونی ممالک میں گھروں کی تعمیر کے دوران بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے پر کام کیا جاتا ہے۔ اس سسٹم کو انگریزی میں رین واٹر ہارویسٹنگ سسٹم کہا جاتا ہے، جس کے تحت چھت پربنے ٹینک میں بارش کا تمام پانی جمع ہوجاتا ہے، جو بعد میں کپڑے دھونے، باغبانی یا پھر ٹوائلٹ میں استعمال کیا جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں