17

زندگی کی بنیاد اور ایک ہمہ گیر محلل

پانی: زندگی کی بنیاد اور ایک ہمہ گیر محلل

کرّۂ اَرض پر موجود تمام قدرتی وسائل میں ’’پانی‘‘ کو ایک بنیادی حیثیت حاصل ہے اور اس کی اہمیت اس وقت دوچند ہو جاتی ہے جب یہ زمین پر موجود مختلف اطرافی ماحول میں اپنی تخلیقی جوہری اور سالماتی ساخت کی بقاء کی خاطر کئی پہلوئوں میں تبدیل ہوتا رہتا ہے اور اس کا ہر پہلو اپنی جگہ ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔ 

اس بات کا اندازہ سب سے پہلے اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ حیات کا وجود توانائی کےحصول سے منسلک ہے جو خوراک میں موجود غذا اور غذائیت سے پیوستہ ہے۔ لیکن ایک متوازن خوراک جو زندگی کی نشو و نما کے لئے اہم ہے۔ بغیر ’’مائع پانی‘‘ کے ممکن ہی نہیں ہے، کیونکہ خوراک کے بغیر کوئی بھی جانداز چند ہفتے تو گزار سکتا ہے لیکن ’’مائع پانی‘‘ کی غیرموجودگی میں چند ایام گزارنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ 

یہی وجہ ہے کہ انسانی جسم کا 70 فی صد وزن تخلیقی طور پر ’’مائع پانی‘‘ پر انحصار کرتا ہے۔ لہٰذا اس قدرتی مقدار کے توازن کو برقرار رکھنا ’’میڈیکل سائنس‘‘ کے حوالے سے یقیناً توجہ طلب ہے، کیوں کہ ’’مائع پانی‘‘ بیشتر مرکبات کو حل کر کے غذا کے ساتھ مل کر توانائی کے حصول کا وسیلہ بن جاتا ہے۔ تمام قدرتی عمل جسم میں موجود ایک جیلی کی طرح کا مادّہ ’’سائی ٹو پلازم‘‘ میں انجام پاتا ہے جو پانی سے لبریز ہوتا ہے۔ یہاں سے پانی غذائی اجزاء کو خون میں موجود سیال (Blood Plasma) کا ایک اہم جُز بنا دیتا ہے، جس میں 90 فی صد پانی ہوتا ہے۔

جس کی وجہ سے جسم کا نظام رواں دواں رہتا ہے۔ دُوسری طرف طبعی سائنس میں اَرضی علوم کے حوالے سے یہ انکشاف ہوتا ہے کہ سطح زمین پر موجود چٹانیں جب نئے ماحول کا مقابلہ کرتی ہیں تو وہ اس ماحول کے مطابق (درجۂ حرارت، دبائو، دیگر عوامل) میں تبدیلی لا کر کسی نئے رُوپ (طبعی یا کیمیائی رُوپ) میں ڈھل جاتی ہیں ،تاکہ ان کی بقاء کو تحفظ حاصل ہو۔ مثلاً چونا پتھر زیرزمین حرارت میں اضافے کے ساتھ ’’سنگ مرمر‘‘ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح ’’پانی‘‘ بھی اپنی ایٹمی اور سالماتی بقاء کے لئے کرّۂ اَرض پر ماحولیاتی تبدیلی کے ساتھ اپنی قلمی ساخت کو ازسرِنو تشکیل دیتا ہے۔ 

مجموعی طور پر اسے ’’تغیّر پذیری (Metamorphism) کا عمل کہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نہایت سرد اور بلند کوہستانی خطّوں میں جہاں درجۂ حرارت نقطۂ انجماد سے نیچے چلا جاتا ہے۔ ’’مائع پانی‘‘ یعنی برف میں تبدیل ہو کر کوہستانی خطّوں کے اطراف موجود چٹانی جسم کے کمزور حصوں میں منجمد ہو کر شدید دبائو پیدا کرتا ہے، جس کی وجہ سے چٹانیں شکست و ریخت ہو کر نہ صرف ملبے کا ڈھیر بن جاتی ہیں بلکہ بتدریج وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ریزہ ریزہ ہو کر ریت میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ 

ان چٹانی جسم میں پیدائشی طور پر بلند کثافت کی حامل دھاتیں مثلاً طلاء (سونا) بھی شامل ہوتا ہے لیکن ان کا حصول اور استخراج ان سنگلاخ یخ بستہ پہاڑی علاقوں سے براہ راست ممکن نہیں ہوتا۔ ایسی صورت حال میں ’’مائع پانی‘‘ مثبت درجۂ حرارت والے علاقوں ’’عمل تبخیر‘‘ کے ذریعہ بھاپ میں تبدیل ہو کر بارش کا باعث بن جاتی ہیں ،جس کے ذریعہ ملبے اور معاشی دھاتی ذرّات میدانی علاقوں تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کو حاصل کرنا نہ صرف آسان ہو جاتا ہے بلکہ معیشت پر بھی سودمند اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

پانی: زندگی کی بنیاد اور ایک ہمہ گیر محلل

پانی کسی بھی حالت میں ہو اس کی کیمیائی ترکیب میں کوئی فرق نہیں پڑتا، صرف پانی کے خواص اور رویہ میں تبدیلی آتی ہے، جس کا اندازہ مختلف درجۂ حرارت پر ’’مائع پانی‘‘ کے سالمات کے قلمی نظام سے ہو جاتا ہے۔ مائع پانی کے سالمات میں دو ہائیڈروجن جواہر آکسیجن کے جوہرکےساتھ مضبوط بانڈ رکھتےہیں،تاہم ہائیڈروجن جوہر کے ایک ہی کنارے میں دو ہائیڈروجن جواہر کی شکل میں غیریکسانیت (Asymmetrical) پائی جاتی ہے۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ مائع پانی کے سالمات قطبی (Polarized) ہوگئے ہیں، جس سے مراد یہ ہے کہ جب ہائیڈروجن کی بندش (Bonding) زیادہ برقی منفیت (Electronegativity) رکھنے والے عناصر مثلاً آکسیجن، فلورین، نائیٹروجن کے ساتھ ہوتا ہے تو سالمات قطبی (Polar) یعنی مثبت اور منفی چارج ہو جاتاہے۔ 

اس طرح تشکیل پانے والے سالمات کو دُہرا قطبی (Dipolar) کہا جاتا ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب ہلکا مثبت چارج والا ہائیڈروجن جوہر کم منفی چارج برقی منفیت والے جوہر کے ساتھ کشش رکھتا ہے۔ اس طرح جیسا یہ سالمات کے درمیان ایک ’’برقی سکونی کشش‘‘ (Electrostatic attraction) اس وقت قائم ہوتا ہے، جب مثبت قطب والے سالمات اپنے پڑوسی منفی قطب والے جوہر کو اپنی طرف مائل کرتا ہے۔ ساتھ ہی جب پانی مائع حالت میں ہوتا ہے تو اس کے سالمات ایک دوسرے کے اردگرد گھومتے رہتے ہیں۔ قطبیت (Polarize) کی وجہ سے سالمات باہم قریب ہوتے ہیں۔ 

مائع پانی کے سالمات میں معمولی برقی کشش ہونے کی وجہ سے دوسری اشیاء یعنی مرکبات باآسانی سالمات کی طرف مائل ہوتے ہیں اور پھر حل ہو جاتے ہیں یا پانی کے ساتھ منتقل ہو کر دُور چلے جاتے ہیں۔ مائع پانی اپنی اسی خصوصیات کی وجہ سے گندے کپڑوں کو صاف کرتا ہے اور خون میں موجود پانی غذا کو جسم کے پٹھوں اور رَگوں تک پہنچاتا ہے۔ باقیات کو گردے (Kidney) تک منتقل کر کے جسم سے باہر نکال دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پانی کو ایک ’’ہمہ گیر محلّل‘‘ (Universal Solvent) کے درجہ پر فائز کیا گیا ہے، تاہم ’’ٹھوس پانی‘‘ یعنی برف میں ایسا نہیں ہوتا۔ 

برف میں سالمات آپس میں اتنے زیادہ (Packed) نہیں ہوتے جیسا کہ ’’مائع پانی‘‘ میں ہوتے ہیں۔ یہاں درجۂ حرارت میں تبدیلی کی وجہ سے ’’قلمی نظام‘‘ ازسرِنو ترتیب پاتے ہیں۔ جب پانی صفر سینٹی گریڈ پر منجمد ہوتا ہے تو پانی کے سالمات کا مثبت پہلو پانی کے سالمات کے منفی پہلو سے منسلک ہو کر ایک خاص قسم کی بندش (Bonding) بناتا ہے۔ جسے ’’ہائیڈروجن بندش‘‘ کہتے ہیں۔ یعنی ایسی قوتِ کشش جو ہائیڈروجن کو اپنے ساتھ شامل کرے۔ اس بندش کے نتیجے میں ایک تین رُخی (Three dimensional) یعنی طول، عرض، گہرائی یا موٹائی طرز کی شش پہلو قلمیں (Hexagonal Crystals) کی تخلیق ہوتی ہے جو شہد کی مکھی کے چھتے (Honey Comb) سے مشابہت رکھتے ہیں۔ 

برف کے گالے (Snow Hakes) شش رُخی شکل کی بہترین نمائندگی کرتا ہے۔ اگر شہد کی مکھی کے چھتے کا برف کی قلمی ساخت سے موازنہ کیا جائے تو یہ مائع پانی کے سالمات کے مقابلے میں کم کسے (Less Packed) بنڈل ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ٹھوس پانی یعنی برف مائع پانی کے مقابلے میں کم کثیف (Less Dense) ہوتا ہے۔ یہ ایک ٹھوس مائع حالت کے درمیان غیرمعمولی تعلق کو ظاہر کرتا ہے ورنہ زیادہ تر مادّوں میں ٹھوس حالت زیادہ کثیف (More Dense) ہوتے ہیں، بہ نسبت مائع پہلو کے لیکن یہ ایک سائنسی حقیقت ہے کہ برف مائع پانی کے مقابلے میں کم کثیف ہوتا ہے ،جس کے بہت گہرے اور مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

یہ حقیقت تو عام مشاہدے میں ہے کہ برف مائع پانی میں ڈوبنے کے بجائے تیرتا نظر آتا ہے۔ ’’آئس برگ‘‘ یعنی برف کے کئی کئی ٹن کے تودے بھی سمندر میں تیرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ جھیلیں اُوپر سے نیچے کی طرف منجمد ہوتی ہیں۔ جھیل میں منجمد ہوتی ہوئی برف نیچے موجود پانی کے لیے حاجز (Insulating Layer) کا کام سرانجام دیتے ہیں جو نیچے موجود پانی کے منجمد ہونے کے عمل کو کم کر دیتا ہے۔ اگر برف ڈوب جائے گی تو جھیل کا پانی زیادہ منجمد ہوگا، جس کی وجہ سے برف کے پگھلائو کا عمل سست پڑ جائے گا۔ 

اگر برف نیچے ڈوب جاتی ہے تو دُنیا کی آب و ہوا اور ماحول مختلف ہو جائے گا۔ مثلاً بحر منجمد (Artic Ocean) موسم سرما کے دوران یخ زدہ ہو جاتا ہے لیکن صرف سطح پر تقریباً 10 سے 15 فٹ تک۔ اگر برف نیچے غرق ہو جائے گی تو سمندر کا بیشتر پانی اُوپر آ کر سرد فضا میں ضم ہو جائے گا اور پھر برف میں تبدیل ہو کر نیچے کی طرف ڈوب کر پورے بحر منجمد کو برف کا ڈھیر بنا دے گا۔ نتیجے میں موسم گرما میں بھی برف نہیں پگھل پائے گی اگر ایسا ہوگیا تو پھر زندگی کا وجود ممکن نہیں رہے گا۔ 

ٹھوس پانی یعنی برف کی ایک اور منفرد خصوصیت سامنے آتی ہے کہ یہ بلند و بالا پہاڑی چوٹیوں اور وسط عرض البلد جہاں شب و روز سردی اور گرمی پڑتی ہے تو یہ موسم کے حوالے سے ایک طاقتور ایجنٹ بن جاتا ہے جسے ’’یخ زدگی‘‘ (Frost Action) کا عمل کہا جاتا ہے۔ یہ عام طور پر شکست و ریخت کا ایک اہم کارندہ بن جاتاہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب پانی صفر ڈگری سینٹی یا 32 فارن ہائٹ پر منجمد ہوتا ہے تو انفرادی طور پر پانی کے سالمات ایک قرینے سے قلمی ساخت میں ترتیب پاتے ہیں۔ 

چوں کہ برف کی قلمی ترتیب مائع پانی کے مقابلے میں زیادہ پھیلتی اور جگہ گھیرتی ہے، جس کی وجہ سے پانی کے حجم میں 9فی صداضافہ ہو جاتا ہے۔ چنانچہ ان علاقوں میں جہاں دن کے وقت شدید گرمی اور رات کو سخت سردی اور برف باری ہوتی ہے تو دن کے وقت گرمی سے چٹانیں پھیلتی ہیں اور رات کو سردی سے سکڑتی ہیں اس طرح بار بار تپشی پھیلائو (Co-effecint of Thermal Expansion) اور سکڑائو (Co-effecient of thermal contraction) سے چٹانوں کے جسم کی قدرتی بندش ڈھیلی ہو کر کمزور پڑنے لگتی ہیں ،چوں کہ چٹانیں مختلف کیمیائی اجزاء کا مجموعہ ہوتی ہیں اسی وجہ سے وہ الگ الگ تپشی پھیلائو اور سکڑائو کی نوعیت کو ظاہر کرتی ہیں جو چٹانی جسم کے اندرونی سالمات میں غیریکساں دبائو کا ذریعہ بنتی ہیں، جس کی وجہ سے ان کے اندر تنائو اور کھنچائو کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور اس طرح چٹانیں چٹخ جاتی ہیں، جس کی وجہ سے ان کی سطح پر خلاء، دراڑ اور جوڑ نمایاں طور پر نظر آنے لگتے ہیں۔ 

رات کی نمی، شبنمی قطرے اور پھر بارش نئے برف کی تہہ کا وزن ان کمزور حصوں پر بُری طرح اثرانداز ہوتے ہیں ،جس کی وجہ سے یہ نہ صرف ملبے کا ڈھیر ہو جاتی ہیں بلکہ ایک طویل مدت کے بعد سنگ ریزوں میں منقسم بھی ہو جاتے ہیں چوں کہ ان کوہستانی علاقوں میں بعض چٹانیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کی پیدائش کے بعد زمین کے اندر سے دھاتی عناصر میں خودکفیل محلول زبردست قوت کے ساتھ داخل ہوا اور پوری جسم میں نسوں (Veins) کا ایک جال بچھا دیا جو عام طور پر کوارٹز اور اس کے ساتھ بھاری کثافت والی دھاتی اجزاء مثلاً گولڈ (کثافت 19.3) پر مشتمل ہوتا ہے۔

ایسی چٹانیں بھی ’’یخ زدگی‘‘ کی زَد میں آ کر دیگر سنگ ریزوں کے ساتھ شامل ہو کر ملبے کا ڈھیر بن کر کوہستانی خطّوں کے اطراف جمع ہو جاتے ہیں لیکن ان سنگ ریزوں اور دھاتی اجزاء کی رسائی میدانی علاقوں تک آبی بخارات کے ’’تکثیف‘‘ کے بغیر ممکن نہیں۔ دراصل یہ وہی مائع پانی ہے جو سُورج کی حرارت کی وجہ سے دریائوں، جھیلوں، سمندروں اور گیلی زمین سے بھاپ بن کر فضاء بسیط میں تحلیل ہو کر زوردار بارش اور برف باری کا باعث بنتا ہے۔ 

یہ کائنات کا ’’آبی چکر’’ (Hydrological Cycle) ہوتا ہے جو ہر لمحہ ایک تسلسل کے ساتھ جاری رہتا ہے، جس سے نالے، ندی اور بڑے بڑے دریا جنم لیتے ہیں۔ جب دریا کوہستانی علاقوں سے رواں دواں ہوتا ہے تو ابتداء میں یہ سرعت کے ساتھ بہتا ہے اور اس میں بڑی قوت اور توانائی ہوتی ہے ،جس کے زیرِاثر وہ اپنے ساتھ بھاری پتھر، کنکر، ریت اور دھاتی ذرّات کو آسانی سے بہا کر لے جاتا ہے۔ 

اپنے تمام بار (Load) کے ساتھ میدانی علاقوں کی جانب پیش قدمی ہوتی ہے۔ اب اگر کوہستانی علاقوں میں دریا کے راستے میں کوئی ایسی چٹان آ جائے ،جس میں کوئی خاص قسم کی دھات یا معاشی معاون موجود ہوں تو وہ ان بہنے والی چٹانی ٹکڑوں کے ساتھ ان ذرّات کے جُز یا ٹکڑے بھی پانی کے ساتھ بہا کر میدانی علاقوں تک ہمسفر ہو جاتی ہیں۔ 

دریائی پانی کے کٹائو کے نتیجے میں یہ جتنا فاصلہ طے کرتی رہیں گی، اسی طرح عمل گھسائو (Abrasion) کے ذریعہ بڑے سے بڑا بلاک باریک سے باریک ٹکڑوں میں تقسیم ہوتے رہیں گے اور سب سے آخر میں ریت سائز (2 سے 1/16 ملی میٹر قطر کے ساتھ یعنی انسان کے بال کی موٹائی کے برابر) جس میں ’’سونے‘‘ کے ذرّات بھی اسی سائز میں ریت کے ساتھ مخلوط حالت میں موجود ہوتے ہیں۔ جب دریا کا پانی ان اجزاء کو لے کر پہاڑی ڈھلوان سے میدانی علاقوں کی طرف بڑھتا ہے تو اس کی طغیانی کم ہو جاتی ہے۔ پانی کی ولاسٹی کم ہونے کی وجہ سے یہ سست اور دھیما ہو جاتا ہے۔ چنانچہ پتھر اور کنکر نیچے تہہ میں بیٹھ جاتے ہیں۔ ساتھ ہی بھاری دھاتی ذرّات ریت کے ساتھ مقید ہو کر اس کا حصہ بن جاتے ہیں۔ 

ریت اور اس میں شامل ’’سونے‘‘ اور دیگر بھاری دھاتی ذرّات پانی کی گزرگاہ میں ایک رُکاوٹ بن جاتے ہیں۔ پانی کا بہائو اس رُکاوٹ سے منہ موڑ کر دُوسرے کنارے کی طرف خطِ منحنی (Curve) طرز کی خمیدگی (Folding) پیدا کر کے آگے کی طرف سفر جاری رکھتے ہیں۔ مسلسل اس عمل کے جاری رہنے سے خمیدگیوں کا ایک طویل سلسلہ رُونما ہوتا ہے اسے دریا کا پیچ و خم (Meander) کہتے ہیں۔ 

اسی راستے پر دریا ایک بل کھاتے ہوئے سانپ کی مانند رواں دواں رہتا ہے۔ انفرادی گہرائی والے حصوں میں ریت اور ریت نما سونے کے ذرّات تہہ نشیں ہو کر مرکوز ہو جاتے ہیں۔ اس قسم کے سونے کے ذخائر کو ’’پلیسر‘‘ (Placer) ذخائر کہتے ہیں۔ بعض اوقات پیچ و خم کا حصہ کٹ کر الگ ہو جاتا ہے تو اس میں ریت کے ساتھ ’’سونا‘‘ اور دیگر دھاتی اجزاء کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے۔ جہاں سے رسائی ممکن ہو جاتی ہے۔ پیچ و خم کے اس کٹے ہوئے حصہ کو ’’بڑا کمانی دار خمیدہ جھیل‘‘ (Oxbow Lake) کہتے ہیں۔ ایسے تمام دریا جو خمیدگی بناتے ہوئے خاص کر کوہستانی علاقوں سے بہہ کر آتے ہیں تو ان کی ریت کے ساتھ عموماً وہ دھات حاصل ہوں گے جو دریا بہا کر لایا ہو۔ 

جہاں جہاں سے دریا کا راستہ ہوگا۔ ان تمام گزرگاہوں میں دھاتی ذرّات کے نشانات حاصل ہوں گے۔ اب اگر یہ معلوم ہو جائے کہ دریا کےپانی میں ’’سونے‘‘ کے معلق ذرّات تیرتے رہے ہیں تو ان کی موجودگی دریا کے بہائو کے کسی نہ کسی مقام یا خطّہ میں یقیناً ہوگی۔ 

چنانچہ ’’مائع پانی‘‘ کو سراغ رساں ایجنٹ تسلیم کر کے تلاش کاری مہم کا آغاز کیا جاتا ہے جو ذخائر کےماخذ تک رسائی کا سبب بن جاتے ہیں۔ سراغ رساں ذرّات کے توسط سے عام طور پر ’’سونے‘‘ کے بابت معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔ ان عناصر کو ’’کھوجی دریائی تیراک‘‘ (River Float Tracing) کہتے ہیں۔ ان کھوجی عناصر کی بنیاد پر جس تیکنیک کا اطلاق کیا جاتا ہے وہ خصوصی طور پر دھات اجزاء کی کثافت سے تعلق رکھتا ہے اسے پلیسر کانکنی یا چھنائو (Panning) کہتے ہیں۔ 

خمیدگی اورچشموں کے اطراف سے بیلچے (Shovel) کی مدد سے ریت کی گرویل کو ایک اَتھلے چھلنی میں رکھا جاتا ہے، پھر اس میں ’’مائع پانی‘‘ کو شامل کیا جاتا ہے۔ چھلنی کوایک طرف جھکا کر ’’دائری چکر‘‘ میں متحرک کرتے ہیں۔ ایسا کرنے سے کم کثافت والے ہلکی دھات کو چھلنی کے کناروں پر جمع کر دیتا ہے۔ اس طرح ’’پانی‘‘ اپنی اہمیت برقرار رکھتے ہوئے بھاری کثافت کے سونے کے پیوست ٹکڑوں اور ذرّات کو چھلنی کی تہہ میں مرکوز کر دیتا ہے۔ 

ابتدائی اَدوار میں ’’پلیسر ذخائر‘‘ کو کمتر درجہ کا سمجھا جاتا تھا لیکن 1849ء میں یورپ نے اس کی طرف توجہ دی اورکیلی فورنیا میں بڑے پیمانے پر تلاش کاری کا سلسلہ شروع ہوا، پھر بہتر فنیات کی بدولت معاشی طور پر قابل حصول اور استعمال بن چکی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں