14

پاکستانی ڈاکٹر کا کارنامہ، انسان میں خنزیر کے دل کی پیوندکاری

امریکا میں پاکستان کے ڈاکٹر منصور محی الدین نے میڈیکل سائنس کی دنیا میں کارنامہ انجام دیتے ہوئے ایک دل کے مریض کے سینے میں خنزیر کا دل لگا دیا۔

یونیورسٹی آف میری لینڈ اسکول آف میڈیسن کے مطابق ایک مریض میں کامیابی سے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ خنزیر کا دل لگایا گیا ہے۔

ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی کراچی سے گریجویشن کرنے والے ڈاکٹر منصور محی الدین نے ’جیو نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہم نے تمام جانوروں کا موازنہ کیا کہ کونسا جانور انسان سے زیادہ قریب ہے، ابتدائی تجربات میں بندر کا دل لگایا جاتا تھا۔

انہوں نے بتایا ہے کہ بندر کا دل پیوند کاری میں مفید ثابت نہ ہوا، جبکہ خنزیر پر تجربہ مفید رہا، چند مہینوں کے خنزیر کا دل بالغ انسان کے دل کے سائز کے برابر ہو جاتا ہےاس کے علاوہ بھی مختلف وجوہات کی وجہ سے تمام ریسرچ اس خنزیر پر کی گئی۔

ڈاکٹر منصور محی الدین نے بتایا کہ اصل خرچہ اس خنزیر کو جینیاتی طور پر تبدیل کرنے میں ہے جو کہ ابھی تجرباتی مراحل میں ہے، جس کی وجہ سے اس کی لاگت زیادہ ہوتی ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ بیرونی ممالک جہاں تمام میڈیکل اخراجات انشورنس کے ذریعے ادا کیے جاتے ہیں اس طرح کی ٹرانسپلانٹ کے اخراجات کی ادائیگی بھی انشورنس کے ذریعے ہی کی جائے گی۔

ڈاکٹر منصور محی الدین نے یہ بھی بتایا کہ اس طرح کی سرجری پر تقریباً 1000 ڈالرز یعنی پاکستانی پونے 2 کروڑ روپے سے زائد کی لاگت آ سکتی ہے۔

بالٹی مور کے اسپتال میں 7 گھنٹے طویل آپریشن کے ذریعے 57 سالہ امریکی شہری ڈیوڈ بینیٹ کے سینے میں جینیاتی طور پر تبدیل کیا گیا خنزیر کا دل پیوند کیا گیا۔

آپریشن کے 3 دن بعد ڈیوڈ بینیٹ رو بصحت ہیں، یہ ٹرانسپلانٹ مسٹر بینیٹ کی زندگی بچانے کے لیے آخری امید سمجھا جاتا ہے، تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ یہ آپریشن کتنے عرصے تک زندگی بچانے میں کامیاب رہے گا۔

ڈیوڈ بینیٹ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ یا تو مرنا تھا یا یہ ٹرانسپلانٹ کرانا تھا، اس کے سوا میرے پاس کوئی راستہ نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ یہ آپریشن اندھیرے میں تیر چلانے کے مترادف ہے، مگر یہ میرے پاس جینے کے لیے واحد اور آخری راستہ تھا۔

امریکی میڈیکل ریگولیٹر اتھارٹی کی جانب سے ڈیوڈ بینیٹ کی زندگی بچانے کےلیے یونیورسٹی آف میری لینڈ میڈیکل سینٹر کے ڈاکٹروں کو اس آپریشن کی خصوصی اجازت دی گئی تھی۔

اس سے قبل امریکی حکام کی جانب سے خنزیر کے دل کی انسانی سینے میں پیوندکاری کو ناکام قرار دیا جا چکا ہے۔

اس ٹرانسپلانٹ کو انجام دینے والی میڈیکل ٹیم کی برسوں کی یہ تحقیق اور اس کے نتائج دنیا بھر میں زندگیوں کو بدل سکتے ہیں۔

یونیورسٹی آف میری لینڈ اسکول آف میڈیسن کے سرجن بارٹلی گریفتھ کے مطابق انسانی جسم میں خنزیر کے دل کی پیوند کاری دنیا میں اعضاء کی کمی کے بحران کو حل کرنے کی جانب ایک قدم ثابت ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ امریکا میں 1 دن میں 17 افراد ٹرانسپلانٹ کے انتظار میں مر جاتے ہیں، جبکہ پیوند کاری کے لیے اعضاء کا انتظار کرنے والے مریضوں کی تعداد 1 لاکھ سے زائد ہے۔

واضح رہے کہ ٹرانسپلانٹیشن کے لیے جانوروں کے اعضاء کے استعمال کے امکان پر طویل عرصے سے غور کیا جا رہا ہے جبکہ خنزیر کے دل کے والوز کا انسانی جسم میں استعمال پہلے سے ہی عام ہے۔

آپریشن کے بعد صحت کی جانب گامزن ڈیوڈ بینیٹ کو امید ہے کہ ان کا یہ ٹرانسپلانٹ انہیں زندگی کو رواں دواں رکھنے میں مدد دے گا، وہ سرجری سے قبل 6 ہفتوں تک بستر پر ایک مشین سے منسلک رہے جو انہیں زندہ رکھنے میں مدد گار تھی۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں