میکسیکو کی پارلیمنٹ نے ان ممالک کیخلاف ٹیرف کو 50 فیصد تک بڑھا دیا ہے جن کے ساتھ اس کا آزادانہ تجارتی معاہدہ ایف ٹی اے نہیں ہے۔
میکسیکو کی جانب سے یہ ٹیرف بھارت، چین، تھائی لینڈ اور انڈونیشیا سمیت کئی ایشیائی ممالک کی برآمدات کو متاثر کرے گا۔ان ممالک سے برآمدات اب میکسیکو کے لیے مہنگی ہو جائیں گی۔
میکسیکو کے صدر کلاڈیو شین بام کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ٹیرف میں اضافے کا یہ قدم ملکی پیداوار اور روزگار میں اضافے کیلئے ضروری ہے۔
غیر ملکی خبررساں ادارے نے ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ میکسیکو کے اس اقدام سے انڈیا میں کام کرنے والی ووکس ویگن اور ہنڈائی جیسی آٹو کمپنیوں کی 9,000 کروڑ روپے کی کار برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں۔
بھارت سے برآمد ہونے والی کاروں پر ڈیوٹی 20 فیصد سے بڑھ کر 50 فیصد ہو جائے گی۔ اس سے ووکس ویگن، ہنڈائی، نسان اور ماروتی سوزوکی کی برآمدات متاثر ہوں گی۔یہ وہ کمپنیاں ہیں جو بھارت سے میکسیکو کو زیادہ سے زیادہ کاریں برآمد کرتی ہیں۔میکسیکو جنوبی افریقہ اور سعودی عرب کے بعد بھارت کاروں کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔
سوسائٹی آف انڈین آٹوموبائل مینوفیکچررز، جو بھارت کی کار انڈسٹری کی نمائندہ تنظیم ہے، نے وزارت تجارت سے درخواست کی تھی کہ وہ میکسیکو سے بھارت سے برآمد ہونے والی کاروں پر موجودہ ٹیرف کی شرح برقرار رکھنے کا مطالبہ کرے۔
مالی سال 2024-25 کے دوران، ہ انڈیا نے میکسیکو کو 5.3 بلین ڈالر کا سامان برآمد کیا، جس میں سے تقریباً 1 بلین ڈالر، یا 9,000 کروڑ روپے کی کاریں تھیں۔
بھارت سے میکسیکو کو برآمد کی جانے والی کل کاروں میں سے تقریباً 50 فیصد سکوڈا آٹو کی ہیں۔ہنڈائی نے 200 ملین ڈالر، نسان نے 140 ملین ڈالر اور سوزوکی نے 120 ملین ڈالر کی کاریں میکسیکو بھیجیں۔
گزشتہ ماہ حکومتی عہدیداروں کے ساتھ ملاقاتوں میں، کار مینوفیکچررز نے کہا کہ بھارت سے میکسیکو بھیجی جانے والی زیادہ تر کاریں چھوٹی گاڑیاں ہیں جو خاص طور پر میکسیکن مارکیٹ کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں، امریکہ کو مزید برآمد کے لیے نہیں۔
کار کمپنیوں نے بھارتی حکام کو یہ بھی بتایا کہ میکسیکو میں ہر سال تقریباً 15 لاکھ مسافر گاڑیاں فروخت ہوتی ہیں جن میں سے تقریباً دو تہائی درآمد کی جاتی ہیں۔