اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات: ایک سنجیدہ نظام کا تماشہ

طارق مسعود

یوں محسوس ہوتا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات مسلم لیگ (ن) کے لیے محض ایک سیاسی الجھن نہیں بلکہ ایک ایسی چھیڑ بن چکے ہیں جس سے جان چھڑانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ انتخابی عمل جب بھی اپنے آخری مراحل میں داخل ہوتا ہے، کوئی نہ کوئی نیا آرڈیننس، کوئی قانونی سقم یا انتظامی مجبوری سامنے آ جاتی ہے، اور یوں عوام کا بنیادی جمہوری حق ایک بار پھر التوا کی نذر ہو جاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سا خوف ہے جو موجودہ حکمرانوں کو بار بار پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیتا ہے؟ اگر عوامی حمایت حاصل ہے، اگر کارکردگی پر اعتماد ہے، تو پھر بلدیاتی انتخابات سے گھبرانے کی کیا وجہ ہے؟ بدقسمتی سے تاثر یہی بنتا ہے کہ اقتدار کی نچلی سطح پر عوام کو بااختیار بنانا شاید ایوانِ اقتدار کے لیے قابلِ قبول نہیں رہا۔

بلدیاتی نظام کسی بھی جمہوری ریاست کی بنیاد ہوتا ہے۔ یہی نظام عوام اور ریاست کے درمیان پہلا، براہِ راست اور مضبوط رشتہ قائم کرتا ہے۔ ترقی یافتہ جمہوری ممالک میں بلدیاتی ادارے نہ صرف بااختیار ہوتے ہیں بلکہ انہیں مقامی ترقی، شفافیت اور جواب دہی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔ وہاں سڑک، نالی، پانی، تعلیم اور صحت جیسے بنیادی مسائل کے حل کے لیے مرکز یا صوبے کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی، کیونکہ مقامی نمائندے خود جواب دہ ہوتے ہیں۔

اس کے برعکس پاکستان، اور بالخصوص اسلام آباد میں، بلدیاتی نظام کو ایک سنجیدہ جمہوری ڈھانچے کے بجائے ایک رسمی کارروائی بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ کبھی حلقہ بندیاں مسئلہ بن جاتی ہیں، کبھی قانون سازی، اور کبھی مردم شماری کا بہانہ تراش لیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ دارالحکومت، جو ملک کے لیے مثال ہونا چاہیے، خود جمہوری پسماندگی کی علامت بنتا جا رہا ہے۔

یہ امر بھی افسوسناک ہے کہ اسلام آباد جیسے شہر میں، جہاں انتظامی وسائل، ادارے اور صلاحیت وافر مقدار میں موجود ہے، وہاں بھی بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہو پا رہا۔ اگر وفاقی دارالحکومت میں عوام کو ان کا حق نہیں دیا جا سکتا تو باقی ملک سے کیا توقع رکھی جائے؟

حکمران جماعت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بلدیاتی نظام کو کمزور کرنا دراصل جمہوریت کی جڑیں کھوکھلی کرنے کے مترادف ہے۔ طاقت کو چند ہاتھوں میں مرکوز رکھنے سے وقتی سیاسی فائدہ تو حاصل ہو سکتا ہے، مگر اس کے نتیجے میں عوامی اعتماد، سیاسی استحکام اور نظام کی ساکھ بری طرح متاثر ہوتی ہے۔

وقت آ گیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کو سیاسی مجبوری نہیں بلکہ جمہوری ذمہ داری سمجھا جائے۔ اسلام آباد کے عوام کسی رعایت یا احسان کے طلب گار نہیں، وہ صرف اپنا آئینی اور جمہوری حق مانگ رہے ہیں۔ اگر یہی حق بار بار پامال ہوتا رہا تو سوال صرف بلدیاتی نظام کا نہیں رہے گا، بلکہ پوری جمہوری ساخت سوالیہ نشان بن جائے گی۔

جمہوریت کی اصل طاقت ایوانوں میں نہیں، گلی محلوں میں ہوتی ہے۔ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جائے گا، بلدیاتی نظام یونہی مذاق بنا رہے گا اور عوام یونہی مایوسی کا شکار رہیں گے

اپنا تبصرہ لکھیں