عارف اسلم خان کی تصنیف “آزادی کا ایک نشان، گلگت/بلتستان” محض ایک شخصی آپ بیتی نہیں بلکہ برصغیر کی تاریخ کے ایک نہایت اہم، مگر نسبتاً کم بیان کیے گئے باب کی مستند دستاویز ہے۔ یہ کتاب بریگیڈیئر (مرحوم) اسلم خان ہلالِ جرأت، ملٹری کراس، فخرِ کشمیر کی حیات و خدمات کے ذریعے گلگت بلتستان کی آزادی، قیامِ پاکستان کے ابتدائی دفاعی معرکوں اور ایک پیشہ ور سپاہی کی فکری و عملی زندگی کو نہایت خوش اسلوبی سے قارئین کے سامنے پیش کرتی ہے۔
مصنف نے اپنے والد کی شخصیت کو محض ایک فوجی افسر کے طور پر نہیں بلکہ ایک وژنری، مدبر اور قوم پرست انسان کے طور پر اجاگر کیا ہے۔ 1947–48 کے نازک دور میں مظفرآباد، گلگت اور بلتستان کو بھارتی فوج کے تسلط سے آزاد کرانے میں بریگیڈیئر اسلم خان کا کردار تاریخ کا وہ روشن باب ہے جسے اس کتاب نے تحقیق، شواہد اور نایاب تصویری مواد کے ساتھ محفوظ کر دیا ہے۔ مصنف کی تحقیق کا کمال یہ ہے کہ وہ واقعات کو جذباتی نعروں کے بجائے حقائق، دستاویزات اور عینی شواہد کے ذریعے بیان کرتے ہیں، جس سے کتاب کی علمی حیثیت مزید مستحکم ہو جاتی ہے۔
کتاب کی ایک بڑی خوبی اس کا بصری (visual) پہلو ہے۔ تاریخی اہمیت کی حامل نایاب تصاویر نہ صرف متن کو تقویت دیتی ہیں بلکہ قاری کو اس دور میں لے جاتی ہیں جہاں آزادی محض ایک خواب نہیں بلکہ قربانی، حکمتِ عملی اور جرأت کا تقاضا تھی۔ یہ تصاویر اس کتاب کو عام سوانح عمری سے بلند کر کے ایک تاریخی حوالہ (reference work) بنا دیتی ہیں۔
بریگیڈیئر اسلم خان کی فوجی زندگی کے ساتھ ساتھ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد کی خدمات کو بھی بڑی خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔ خصوصاً شنگریلا ٹورسٹ ریزورٹ جیسے شاندار منصوبے کا تصور اور اس کا عملی قیام اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ صرف جنگ کے میدان کے ہیرو نہیں تھے بلکہ امن، خوبصورتی اور تعمیر کے علمبردار بھی تھے۔ یہ پہلو قاری کو یہ احساس دلاتا ہے کہ ایک سچا سپاہی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی قوم کی خدمت کے نئے راستے تلاش کرتا ہے۔
مصنف نے کتاب میں پاکستان فضائیہ کے بانی اور “پاکستان فضائیہ کے باپ” کہلانے والے ائیر مارشل محمد اصغر خان کی شخصیت کو بھی نہایت دلنشیں انداز میں پیش کیا ہے۔ مختلف تصاویر اور واقعات کے ذریعے ان کی جدوجہد اور کردار کو بیان کرنا کتاب کے دائرۂ اثر کو محض ایک خاندان سے نکال کر قومی سطح تک لے آتا ہے۔ یہ ربط اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ پاکستان کی عسکری تاریخ چند افراد کی نہیں بلکہ ایک مشترکہ قومی کاوش کی داستان ہے۔
کتاب کے آخری ابواب میں مصنف نے اپنے آبا و اجداد، خاندان کے شہداء اور سپاہیوں کا ذکر کر کے قربانی کی ایک طویل روایت کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ یہ صفحات محض خاندانی فخر کا اظہار نہیں بلکہ اس قوم کی اجتماعی قربانیوں کی یاد دہانی ہیں جن کی بدولت ہم آج آزادی کی فضا میں سانس لے رہے ہیں۔ یہاں عارف اسلم خان ایک مورخ، محقق اور ذمہ دار شہری کے طور پر سامنے آتے ہیں جو تاریخ کو فراموش ہونے سے بچانے کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔
مجموعی طور پر “آزادی کا ایک نشان، گلگت/بلتستان” ایک معلوماتی، تحقیقی اور دل کو چھو لینے والی کتاب ہے جو عسکری تاریخ، قومی جدوجہد اور شخصی کردار نگاری کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے۔ یہ کتاب طلبہ، محققین، عسکری امور سے دلچسپی رکھنے والوں اور ہر اس پاکستانی کے لیے نہایت اہم ہے جو اپنی تاریخ کو محض نصابی سطح پر نہیں بلکہ شعور کی گہرائی کے ساتھ سمجھنا چاہتا ہے۔
کتاب تبصرہ: “آزادی کا ایک نشان، گلگت/بلتستان”
عارف اسلم خان کی تصنیف “آزادی کا ایک نشان، گلگت/بلتستان” محض ایک شخصی آپ بیتی نہیں بلکہ برصغیر کی تاریخ کے ایک نہایت اہم، مگر نسبتاً کم بیان کیے گئے باب کی مستند دستاویز ہے۔ یہ کتاب بریگیڈیئر (مرحوم) اسلم خان ہلالِ جرأت، ملٹری کراس، فخرِ کشمیر کی حیات و خدمات کے ذریعے گلگت بلتستان کی آزادی، قیامِ پاکستان کے ابتدائی دفاعی معرکوں اور ایک پیشہ ور سپاہی کی فکری و عملی زندگی کو نہایت خوش اسلوبی سے قارئین کے سامنے پیش کرتی ہے۔
مصنف نے اپنے والد کی شخصیت کو محض ایک فوجی افسر کے طور پر نہیں بلکہ ایک وژنری، مدبر اور قوم پرست انسان کے طور پر اجاگر کیا ہے۔ 1947–48 کے نازک دور میں مظفرآباد، گلگت اور بلتستان کو بھارتی فوج کے تسلط سے آزاد کرانے میں بریگیڈیئر اسلم خان کا کردار تاریخ کا وہ روشن باب ہے جسے اس کتاب نے تحقیق، شواہد اور نایاب تصویری مواد کے ساتھ محفوظ کر دیا ہے۔ مصنف کی تحقیق کا کمال یہ ہے کہ وہ واقعات کو جذباتی نعروں کے بجائے حقائق، دستاویزات اور عینی شواہد کے ذریعے بیان کرتے ہیں، جس سے کتاب کی علمی حیثیت مزید مستحکم ہو جاتی ہے۔
کتاب کی ایک بڑی خوبی اس کا بصری (visual) پہلو ہے۔ تاریخی اہمیت کی حامل نایاب تصاویر نہ صرف متن کو تقویت دیتی ہیں بلکہ قاری کو اس دور میں لے جاتی ہیں جہاں آزادی محض ایک خواب نہیں بلکہ قربانی، حکمتِ عملی اور جرأت کا تقاضا تھی۔ یہ تصاویر اس کتاب کو عام سوانح عمری سے بلند کر کے ایک تاریخی حوالہ (reference work) بنا دیتی ہیں۔
بریگیڈیئر اسلم خان کی فوجی زندگی کے ساتھ ساتھ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد کی خدمات کو بھی بڑی خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔ خصوصاً شنگریلا ٹورسٹ ریزورٹ جیسے شاندار منصوبے کا تصور اور اس کا عملی قیام اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ صرف جنگ کے میدان کے ہیرو نہیں تھے بلکہ امن، خوبصورتی اور تعمیر کے علمبردار بھی تھے۔ یہ پہلو قاری کو یہ احساس دلاتا ہے کہ ایک سچا سپاہی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی قوم کی خدمت کے نئے راستے تلاش کرتا ہے۔
مصنف نے کتاب میں پاکستان فضائیہ کے بانی اور “پاکستان فضائیہ کے باپ” کہلانے والے ائیر مارشل محمد اصغر خان کی شخصیت کو بھی نہایت دلنشیں انداز میں پیش کیا ہے۔ مختلف تصاویر اور واقعات کے ذریعے ان کی جدوجہد اور کردار کو بیان کرنا کتاب کے دائرۂ اثر کو محض ایک خاندان سے نکال کر قومی سطح تک لے آتا ہے۔ یہ ربط اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ پاکستان کی عسکری تاریخ چند افراد کی نہیں بلکہ ایک مشترکہ قومی کاوش کی داستان ہے۔
کتاب کے آخری ابواب میں مصنف نے اپنے آبا و اجداد، خاندان کے شہداء اور سپاہیوں کا ذکر کر کے قربانی کی ایک طویل روایت کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ یہ صفحات محض خاندانی فخر کا اظہار نہیں بلکہ اس قوم کی اجتماعی قربانیوں کی یاد دہانی ہیں جن کی بدولت ہم آج آزادی کی فضا میں سانس لے رہے ہیں۔ یہاں عارف اسلم خان ایک مورخ، محقق اور ذمہ دار شہری کے طور پر سامنے آتے ہیں جو تاریخ کو فراموش ہونے سے بچانے کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔
مجموعی طور پر “آزادی کا ایک نشان، گلگت/بلتستان” ایک معلوماتی، تحقیقی اور دل کو چھو لینے والی کتاب ہے جو عسکری تاریخ، قومی جدوجہد اور شخصی کردار نگاری کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے۔ یہ کتاب طلبہ، محققین، عسکری امور سے دلچسپی رکھنے والوں اور ہر اس پاکستانی کے لیے نہایت اہم ہے جو اپنی تاریخ کو محض نصابی سطح پر نہیں بلکہ شعور کی گہرائی کے ساتھ سمجھنا چاہتا ہے