فیصل ٹاؤن فیز ۲ میں بغیر این او سی اربوں کی مبینہ لوٹ مار، ملٹی پروفیشنل سوسائٹی کے فنڈز کی منتقلی اور ادارہ جاتی خاموشی پر سنگین سوالات

راولپنڈی
(بیورو چیف)
کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز کے نظام میں مبینہ طور پر اربوں روپے کی بدعنوانی، امانت میں خیانت اور منی لانڈرنگ کے سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں۔ دستیاب معلومات اور شواہد کے مطابق ملٹی پروفیشنل کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کو منظم انداز میں ہائی جیک کر کے اس کے ممبران سے وصول کی گئی بھاری رقوم کو غیر قانونی طور پر فیصل ٹاؤن فیز ۱ اور فیز ۲ جیسے کمرشل ہاؤسنگ منصوبے میں منتقل کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق فیصل ٹاؤن کے لیے این او سی حاصل کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم متعلقہ اتھارٹی نے قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزیوں کے باعث این او سی جاری ریجیکٹ کر دِیا ۔فیصل ٹاؤن کا علاقہ گرین ایریا اورہائی رسک فلوڈڈ ایریا ہے اس کے باوجود فیصل ٹاؤن کی ڈیولپمنٹ، مارکیٹنگ اور پلاٹس و کمرشل یونٹس کی فروخت بلا تعطل جاری رہی، جس کے ذریعے اربوں روپے کی مبینہ کمائی کی گئی۔

اطلاعات کے مطابق ملٹی پروفیشنل کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے ممبران سے ایل آر ٹیز (LRTs) اور دیگر معاملات میں وصول کی گئی اربوں روپے کی رقم، جو مکمل طور پر پبلک منی تھی، فیصل ٹاؤن کے لیے زمینوں کی خریداری، انفراسٹرکچر، سڑکوں اور مارکیٹنگ پر خرچ کی گئی۔ ان رقوم کے استعمال اور منتقلی کے طریقۂ کار نے شفافیت پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق کوآپریٹو سوسائٹی کے فنڈز سے خریدی گئی زمین کا ذاتی ناموں پر منتقل ہونا کھلی امانت میں خیانت، اختیارات کے ناجائز استعمال اور منی لانڈرنگ کے زمرے میں آتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ این او سی کے مسترد ہونے کے باوجود ہاؤسنگ منصوبے کی سرگرمیوں کا جاری رہنا متعلقہ ریگولیٹری اداروں، ضلعی انتظامیہ اور دیگر ریاستی محکموں کی مجرمانہ خاموشی یا مبینہ ملی بھگت کی نشاندہی کرتا ہے۔

معاملے کا ایک اور سنگین پہلو یہ ہے کہ فیصل ٹاؤن بغیر این او سی نہ صرف ترقیاتی کام کرتا رہا بلکہ کھلے عام عوام سے رقوم وصول کرتا رہا، جو قواعد کے مطابق غیر قانونی عمل سمجھا جاتا ہے۔ شہری اور متاثرہ ممبران نے مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی اور شفاف تحقیقات کی جائیں، تمام مالی لین دین کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے اور کوآپریٹو سوسائٹی کے ممبران کی مبینہ طور پر لوٹی گئی رقوم کا مکمل حساب لے کر ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

یہ معاملہ محض ایک ہاؤسنگ منصوبے تک محدود نہیں بلکہ ریاستی رٹ، قانون کی عملداری اور عوامی اعتماد کے لیے ایک سنگین امتحان بن چکا ہے

اپنا تبصرہ لکھیں