مری میں ایک بار پھر گہرے بادل داخل، خون جما دینے والی سردی کا راج

انہوں نے کہا کہ درجۂ حرارت گرنے سے سڑکوں پر برف شیشے جیسی سخت تہہ بن سکتی ہے، ٹائروں پر ’اسنوچین‘ کے بغیر کسی گاڑی کو مری میں داخلے کی اجازت نہیں ملے گی۔ دھند اور برفباری میں فوگ لائٹس اور ہیزرڈ لائٹس کا استعمال یقینی بنائیں۔

ڈاکٹر رضا تنویر کا کہنا تھا کہ مری روانگی سے قبل گاڑی کا فیول ٹینک فل رکھیں، مکینیکل فٹنس چیک کرلیں۔ بریک، وائپرز، ہیٹر اور ڈی فوگر کا درست ہونا یقینی بنائیں، مری میں برف والی سڑکوں پر رفتار کم اور اگلی گاڑی سے 50 میٹر دور رہیں۔

ڈی پی او مری نے کہا کہ گاڑی میں ہیٹر چلے تو شیشے کھلے رکھیں، آکسیجن کی کمی جانی نقصان کرسکتی ہے، شاہراہوں یا ڈھلوانوں پر گاڑی پارک نہ کریں تاکہ برف ہٹانے میں رکاوٹ نہ ہو، چیک پوسٹوں پر تعینات پولیس کی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔

قلات، زیارت، کوژک ٹاپ، شیلا باغ، کان مہتر زئی میں پھر سے برفباری شروع ہو گئی ہے۔

پنجاب اور خیبر پختونخوا کو ملانے والے این 50 کے بعض مقامات پر ٹریفک کی روانی متاثر ہو گئی ہے، ہیوی مشینری سے برف ہٹانے کام جاری ہے۔

این ڈی ایم اے نے کے پی، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے متعدد علاقوں میں ممکنہ بارش اور برفباری کا الرٹ جاری کر دیا۔

دیامر، بابو سر ٹاپ، بٹوگاہ ٹاپ پر وقفے وقفے سے برفباری سے نظام زندگی متاثر ہو گیا ہے، بالائی وادیوں کی رابطہ سڑکیں بند ہو گئی ہیں۔ نانگاپربت اور بابوسر ٹاپ پر 10 فٹ سے زیادہ برف پڑ چکی ہے۔

این ایچ اے کے حکام کے مطابق کوئٹہ کی مختلف شاہراہوں پر برفباری کے بعد برف ہٹانے اور نمک کے چھڑکاؤ کا کام جاری ہے، برفباری کے دوران اور بعد مین شاہراہوں پر ٹریفک بحال رکھی جا رہی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں