اسلام آباد : بحریہ یونیورسٹی کے انتظامی ماحول سے متعلق حالیہ دنوں میں ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں جنہوں نے اس معتبر تعلیمی ادارے کے اندرونی کلچر اور نظم و نسق کے حوالے سے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک طالب علم کی ویڈیو اور جامعہ سے منسلک بعض ذرائع کی معلومات کے مطابق، یونیورسٹی میں انتظامی سختی اور نگرانی کے انداز پر سنجیدہ تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق، عابد مجید ریکٹر کی جانب سے ذمہ داری سنبھالنے کے بعد کلاس رومز کے اچانک دورے، حاضری کے معاملات پر سخت رویہ، اور بعض مواقع پر اساتذہ کو طلبہ کے سامنے سرزنش کیے جانے جیسے اقدامات کو یونیورسٹی کلچر سے مطابقت نہ رکھنے والا قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں نظم و ضبط ضرور ہوتا ہے، مگر اس کا نفاذ باہمی احترام، مشاورت اور اکیڈمک آزادی کے دائرے میں کیا جاتا ہے۔
جامعہ کے اندر موجود بعض فیکلٹی ممبران، غیر رسمی گفتگو میں، اس تاثر کا اظہار کرتے ہیں کہ فیصلوں میں روایتی اکیڈمک ہائرارکی اور ڈیپارٹمنٹل مشاورت کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، اساتذہ کے وقار اور پیشہ ورانہ خودمختاری پر دباؤ تعلیمی معیار، تحقیق اور تدریسی ماحول کو متاثر کر سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پر زیرِ بحث آنے والی ایک ویڈیو میں ایک طالب علم نے حاضری کی سختی کے باعث ذہنی دباؤ کا ذکر کرتے ہوئے انتہائی قدم اٹھانے کی دھمکی تک دی، جو صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔ تعلیمی ماہرین کے مطابق، ایسے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط کے ساتھ ساتھ طلبہ کی ذہنی صحت اور کونسلنگ کے مؤثر نظام بھی ناگزیر ہوتے ہیں۔
یونیورسٹی کلچر عام طور پر مکالمے، تنقیدی سوچ، تحقیقی آزادی اور باہمی اعتماد پر استوار ہوتا ہے۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ اگر انتظامی فیصلے خوف یا تحقیر کے تاثر کے ساتھ نافذ ہوں تو اس سے نہ صرف فیکلٹی کا مورال متاثر ہوتا ہے بلکہ ادارے کی مجموعی ساکھ بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ بہترین اساتذہ کا دل برداشتہ ہونا کسی بھی یونیورسٹی کے لیے طویل مدتی نقصان ثابت ہو سکتا ہے۔
اب تک اس حوالے سے بحریہ یونیورسٹی کی انتظامیہ کا باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات میں شفاف وضاحت، اندرونی مکالمہ اور فیکلٹی و طلبہ کی نمائندہ آوازوں کو اعتماد میں لینا ہی تعلیمی اداروں کی مضبوط روایت رہی ہے۔
بحریہ یونیورسٹی قومی سطح پر ایک اہم تعلیمی شناخت رکھتی ہے۔ ماہرین کے مطابق، موجودہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ انتظامی اندازِ حکمرانی، اکیڈمک آزادی اور باہمی احترام کے توازن پر سنجیدگی سے نظرثانی کی جائے، تاکہ ادارے کا علمی وقار اور اعتماد بحال رکھا جا سکے