(ابرار ولی نمائندہ خصوصی) بحیرۂ روم اور مشرقِ وسطیٰ کے گرد ایک نئے علاقائی اتحاد کی بات بظاہر سفارتی حکمتِ عملی محسوس ہوتی ہے مگر جب یہ تصور نیتن یاہو جیسے رہنما کی زبان سے سامنے آئے تو خطے کے کروڑوں مسلمانوں کے ذہن میں کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔
نیتن یاہو کا ایک بیان سامنے ایا ہے جس میں وہ کہہ رہے ہیں کے”میری آنکھوں کے سامنے جو تصور ہے، اُس میں ہم ایک پورا نظام دراصل ایک طرح کا اتحاد بحیرۂ روم کے گرد اور مشرقِ وسطیٰ کے اندر تشکیل دے رہے ہیں۔
اس میں بھارت عرب ممالک افریقی ممالک اور بحیرۂ روم کے ممالک جیسے یونان اور قبرص شامل ہیں نیز ایشیا کے کچھ اور ممالک بھی شامل ہیں جن کی میں اس وقت تفصیل بیان نہیں کر رہا
اُنھو نے مزید کہا مقصد یہ ہے کہ ایسے ممالک کا ایک محور اتحاد بنایا جائے جو حقیقت چیلنجز اور اہداف کو ایک ہی نظر سے دیکھیں اُن شدت پسند محاذوں کے مقابلے میں چاہے وہ انتہا پسند شیعہ محور ہو جس کے خلاف ہم نے سختی سے جدوجہد کی ہے اور کر رہے ہیں یا پھر انتہا پسند سنی محور ہوں”
نیتن یاہو نے سنی شیعہ اختلافات کو شیعہ شدت پسند اور سنی شدت سپند گروہ کہا ہے،دراصل یہ بیان محض جغرافیائی سیاست کے تناظر میں نہی بلکے غزہ اور فلسطین میں جاری خونریزی کے پس منظر میں ہے،نیتن یاہو کی قیادت کو دنیا بھر میں شدید تنقید کا سامنا ہے نیتن یاہو فلسطینی مسلمانوں کے خون کا ذمہ دار ہے ہزاروں جانوں کے ضیاع اور تباہ حال بستیوں کی تصاویر نے مسلم دنیا کے دلوں میں گہرا زخم چھوڑا ہے۔
ایسے میں جب وہ ایک نئے “محور” کی بات کر رہے ہیں جو شیعہ اور سنی محاذوں کے مقابل کھڑا ہو تو سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ واقعی امن کا منصوبہ ہے یا خطے میں نئی صف بندی کی تیاری؟ جہاں مسلم ممالک پہلے ہی شیعہ۔سنی اختلافات کے فرقہ وارنہ کشیدگی کے تلخ تجربات سے گزر رہے ہیں۔ اب اگر بیرونی طاقتیں اسی تقسیم کو بنیاد بنا کر نیا اتحاد تشکیل دیں گی تو اس کے اثرات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کے تناظر میں یہ معاملہ اور بھی حساس ہے ہمارا ملک خود دہشت گردی اور فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف بھاری قیمت ادا کر چکا ہے ہم جانتے ہیں کہ مسلکی بنیادوں پر صف بندی کس طرح معاشروں کو کمزور کرتی ہے اسی لیے کسی بھی ایسے بیانیے سے محتاط رہنا ضروری ہے جو مسلم دنیا کو مزید خانوں میں تقسیم کرے۔
اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم ممالک داخلی ہم آہنگی سیاسی استحکام اور اقتصادی تعاون پر توجہ دیں نہ کہ خود کو عالمی طاقتوں کے بنائے گئے نئے محوروں کا حصہ بنائیں۔