میڈیا ہاؤسز یا بیگار کیمپ ، ملکی قوانین پر عملدرآمد کون کرائے گا ؟

طارق عثمانی ،
صدر راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس

قومی خزانے اور عوامی ٹیکس کے پیسوں سے اربوں روپے کمانے والے تمام میڈیا ہاؤسز میں ملکی قوانین کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں ، وزارت اطلاعات و نشریات اور صوبائی اطلاعات کی وزارتیں و ادارے اور سرکاری مشینری ملکی قوانین کو میڈیا ہاؤسز پر لاگو کرانے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے اور پاکستان کے تمام میڈیا ہاؤسز اس وقت عملی طور پر بیگار کیمپوں میں تبدیل ہو چکے ہیں راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کی حالیہ سروے رپورٹ میں یہ بھیانک اور شرمناک انکشاف ہوا ہے کہ جڑواں شہروں کے تمام میڈیا ہاؤسز میں صحافیوں میڈیا ورکرز اور دیگر عملے کو ہر ماہ تنخواہیں تاخیر سے ادا کی جا رہی ہیں کوئی ایک بھی میڈیا ہاؤس یکم تاریخ کو تنخواہ ادا کرنے کی پابندی نہیں کر رہا ، میڈیا کارکنوں کی جبری برطرفیوں کا ایک لا متناعی سلسلہ جاری ہے ، میڈیا کارکنوں سے 10 سے 15 گھنٹے کی مسلسل ڈیوٹیاں لی جا رہی ہیں اور کمر توڑ مہنگائی میں حکومت کی طرف سے مقرر کردہ کم از کم اجرت 37 ہزار 500 روپے ماہانہ پر کوئی ایک ادارہ بھی عمل درآمد نہیں کر رہا اور یوں تمام میڈیا ہاؤسز عملی طور پر بیگار کیمپوں میں تبدیل ہو چکے ہیں یہ صورتحال صرف جڑواں شہروں تک محدود نہیں ہے بلکہ پورے پاکستان میں اس سے بھی بھیانک صورتحال ہے۔

ٹاؤنز، تحصیلوں اور ضلع کی سطح پر تمام میڈیا ہاؤسز کے نمائندوں ، رپورٹرز اور بیورو چیفس سے تو گزری دہائیوں سے مفت میں بیگار لی جارہی ہے جو صحافت جیسے مقدس پیشہ کو بدنام کرنے اور بلیک میلنگ جیسے مکروہ جرائم کو جنم لینے کی تمام راہیں کھول رہا ہے اور ایسے بیگاری میڈیا ہاوسز ایک منظم مافیا کے روپ میں سامنے آئے ہیں جو ایک طرف حکومتوں کو بلیک میل کرکے سالانہ اربوں روپے کے اشتہارات اور دیگر مراحات لیتے ہیں اور دوسری طرف اپنے میڈیا ہاوسز میں ملازمین کے حوالے سے ظالمانہ رویے اپناتے ہوئے کسی حکومتی قواعدوضوابط کو خاطر میں نہیں لاتے اور اپنے ایمپلائز کے لیے بنائے جانے والے قوانین کا نہ صرف مذاق اڑاتے ہیں بلکہ ان قوانین کی دھجیاں اڑا کر اپنے بے لگام مافیا ہونے کا عملی ثبوت دے رہے ہیں-

راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کے صدر طارق عثمانی کی تحریری شکایت پر اکتوبر 2024 کو پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے تمام حکومتی لائسنس یافتہ میڈیا ہاؤسز کے مالکان کو تنخواہوں اور سروسز کی ادائیگی کو بہتر بنانے اور ملازمین کو تنخواہیں بروقت ادا کرنے سے متعلق مستحکم اصول و قواعد مرتب کرنے اور تنخواہوں کی ادائیگی کے حوالے سے مسائل کو حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں تھیں لیکن یہ افسوسناک امر ہے کہ نہ تو میڈیا مالکان نے اس پر عمل کیا اور نہ ہی پیمرا اس پر عمل درآمد کروا سکی جبکہ پیمرا آرڈیننس 2002 (ترمیمی بل 2023) کی کلاز 5 کے تحت تمام لائسنس ہولڈرز ٹی وی چینلز اس بات کے پابند ہیں کہ وہ اپنے تمام ملازمین کو تنخواہیں بروقت ادا کریں اور مقرر کردہ کم از کم بنیادی اجرت کے قانون پر بھی سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں۔

الیکٹرانک میڈیا ملازمین کی تنخواہوں میں تاخیر اور کم از کم اجرت کو یقینی بنانے کے لیے پیمرا کے واضح قوانین موجود ہیں اور اس سلسلے میں پیمرا کی کونسل آف کمپلینٹس کا فورم موجود ہے۔ یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس نے فروری 2025 کو پیمرا اتھارٹی سے درخواست کی کہ میڈیا مالکان پیمرا کے کسی بھی قاعدے یا ضوابط پر عمل نہیں کررہے، ان کو ملازمین سے متعلق قوانین کا پابند بنایا جائے اور پیمرا قوانین پر سختی سے عمل کروایا جائے۔ جس پر پیمرا حکام نے فروری 2025 کو دوبارہ تنخواہوں کی بروقت ادائیگی ، نوکریوں سے جبری چھانٹیوں اور وزارتِ اطلاعات و نشریات کی اسٹینڈنگ کمیٹی کی جانب سے کم از کم اجرت 37 ہزار 500 روپے کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنانے کی ہدایات دی گئیں تھیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ میڈیا ہاؤسز کے مالکان اس پر قطعی عملدرآمد نہیں کررہے۔

آر آئی یو جے کی حالیہ سروے رپورٹ میں یہ شرمناک انکشاف ہوا کہ آج کے اس مشکل حالات میں بھی میڈیا ورکرز کو 12، 12 ، 18، 18، 22، 23 ،25، 26 ہزار تک تنخواہیں دے رہے ہیں جو کم از کم بنیادی اجرت کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف، چیف جسٹس آف پاکستان ، وزیر اطلاعات عطاء تارڑ، چیئرمین پیمرا اور تمام متعلقہ ادارے اس ساری صورتحال پر سختی سے نوٹس لیں اور میڈیا ہاؤسز میں ملکی قوانین پر عمل درآمد کروائیں اور اشتہارات کی شکل میں سرکاری بزنس جو میڈیا اداروں پر قومی خزانے سے لٹایا جارہا ہے وہ کارکنوں کی نوکریوں کے تحفظ ، بروقت تنخواہوں کی ادائیگی اور کم از کم اجرت کے بنیادی قوانین کے ساتھ مشروط کرنے پر سختی سے عمل درآمد کروائیں اور جو ادارے اس پر عمل نہیں کرتے ان کا بزنس بند اور لائسنس منسوخ کیے جائیں تاکہ میڈیا ہاوسز کی آڑ میں چلائے جانے والے ایسے بیگار کیمپوں کا قلع قمع ہوسکے ۔

اپنا تبصرہ لکھیں