صوبائی وزیر شاہینہ شبیرعلی کی کھلی کچہری کے دوران معمر شہری پر تشدد، تین افراد گرفتار

سندھ کے ضلع سجاول میں صوبائی وزیر برائے وویمن ڈیویلپمنٹ شاہینہ شیر علی کی کھلی کچہری کے دوران ایک معمر شخص پر تشدد کے الزام میں تین ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔
ایس ایس پی علینا راجپر کے مطابق سرکار کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس سے قبل وزیر داخلہ ضیا لنجار نے جمعے کی صبح سندھ اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے تحقیقات اور گرفتاری کا حکم جاری کیا تھا۔
سینیئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے ایوان میں پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ ایک بزرگ شخص جن کا کوئی ذاتی مسئلہ تھا وہاں دوسری پارٹی بھی موجود تھی۔ ان کا آپس میں تصادم ہوا۔ پولیس نے صورتحال کو کنٹرول کیا۔ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، ورنہ اس طرح کے تنازعات میں بڑے نقصانات بھی ہوتے ہیں۔
صوبائی وزیر برائے وویمن ڈیویلپمنٹ شاہینہ شیر علی کا کہنا ہے کہ کھلی کچہری چل رہی تھی، آخر میں ایک بزرگ شخص نے صدا لگائی۔ پیچھے شرارتی شخص نے اور تین چار لوگ بھی آئے، مارپیٹ کی۔ اس دوران پولیس نے بندے کو محفوظ نکال لیا۔ان کا زمین کا کوئی مسئلہ ہے جو آٹھ سال جاری ہے اور اس وقت عدالت میں زیر سماعت ہے۔صوبائی وزیر کا کہنا ہے کہ ایس ایس پی اور ڈی سی کو ملزمان کی گرفتاری کی حکم دیا تھا۔
سجاول میں کھلی کچہری کے دوران رجب میمن نامی شخص نے شکایت کی کہ ان کی زمین پر پیپلز پارٹی کے ضلعی چیئرمین دانش ملکانی نے قبضہ کیا ہے، اس اثنا میں چار پانچ لوگ اٹھے اور انھوں نے اس شخص کو مارپیٹ کرنا شروع کردی۔ پولیس نے انھیں چھڑوایا۔
سوشل میڈیا پر اس شخص پر تشدد کی ویڈیو وائرل ہوگئی جس میں نظر آتا ہے کہ آدھے درجن سے زائد افراد ایک شخص کو لاتیں اور گھونسے مار رہے ہیں جو زمین پر گرا ہوا ہے۔
تاہم دوسری جانب ضلعی چیئرمین داشن ملکانی کا کہنا ہے کہ ان کا واقعے سے تعلق نہیں ہے۔ رجب میمن کا زمین کا تنازع جت برداری کے لوگوں سے ہے، انھیں سیاسی مخالفین استعمال کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں