چمن بارڈر پر تاجروں کے پھنسے ٹرکوں اور مال کی حفاظت کی یقین دہانی

اسلام آباد پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کے باعث سرحد کی بندش کی وجہ سے بلوچستان کے شہر چمن میں پھنسی گاڑیوں اور ان میں موجود مال کے تحفظ کے حوالے سے تاجروں کے نمائندوں نے مقامی حکام سے ملاقات کی ہے۔
سرکاری اعلامیہ کے مطابق ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی اور کسٹمز حکام سے ملاقات کرنے والے وفد میں چیئرمین بونڈڈ کیریئر شمس برنی اور کراچی ٹرانزٹ ٹریڈ کے نمائندے شامل تھے۔
سرکاری اعلامیہ کے مطابق ملاقات میں پاک افغان سرحدی بندش کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر ضلعی حکام اور ڈپٹی کلیکٹر کسٹمز ارشد زبیر نے سرحد کی بندش سے گاڑیوں میں لوڈ مال کی سیفٹی اور سکیورٹی کے حوالے سے تفصیلی معلومات فراہم کیں۔
سرکاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ڈی سی چمن اور کسٹمز حکام نے ٹرانزٹ ٹریڈ یونین کے نمائندوں اور ٹرک مالکان کو ہر قسم کی مدد اور تعاون کا یقین دلایا۔
اعلامیہ کے مطابق ٹرانزٹ ٹریڈ یونین اور ٹرانسپورٹ کمپنی کے مالکان کو پاک افغان سرحد اور چمن ماسٹر پلان کا معائنہ کرایا گیا۔ٹرانسپورٹ کمپنی کے مالکان کو سکیورٹی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے حوالے سے تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں۔
سرکاری حکام کا کہنا تھا کہ کہ ٹرکوں اور مال کی ہر قسم کی سیفٹی اور سکیورٹی کیلئے تمام حفاظتی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ اس حوالے سے تمام متعلقہ ادارے مل کر آئندہ کے لیے لائحہ عمل تیار کریں گے اور تاجروں کے مسائل کا حل نکالیں گے۔
خیال رہے کہ 12 اکتوبر کو دونوں ممالک کے درمیان شروع ہونے والی جھڑپوں کے بعد سے دیگر سرحدی گزرگاہوں کی طرح چمن سرحد بھی افغان مہاجرین کی واپسی کے علاوہ ہر قسم کی آمدورفت کے لیے بند ہے۔سرحد کی بندش کے باعث بڑی تعداد میں مال سے لدی گاڑیاں پاکستان کی سرحد کی جانب پھنسی ہوئی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں