پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری تنصیبات و سہولتوں کی فہرستوں کا تبادلہ ہوا ہے۔
مئی میں بھارتی جارحیت کے بعد بھارت کا پاکستان سے جوہری تنصیبات کی فہرستوں کا تبادلہ ہوا، پاکستان نے بھی جوہری تنصیبات کی فہرست بھارت کے حوالے کردی۔
سالانہ تبادلہ دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کی جوہری تنصیبات پر حملوں سے روکنے کے معاہدے کے تحت کیا گیا، یہ معاہدہ 27 جنوری1991 سے نافذ العمل ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے بتایا کہ پاکستان اور بھارت نے قیدیوں کی فہرستوں کا بھی تبادلہ کیا ہے۔ پاکستان میں قید257 بھارتی قیدیوں کی فہرست بھارتی ہائی کمیشن کے حوالے کی گئی ہے، بھارتی قیدیوں میں 58 شہری اور 199 ماہی گیر شامل ہیں۔
دونوں ممالک ہر سال یکم جنوری اور یکم جولائی کو فہرستیں ایک دوسرے کے حوالے کرتے ہیں۔
ڈھاکا میں ایاز صادق اور جے شنکر کی ملاقات، خوشگوار جملوں کا تبادلہ
بھارت بھی اپنی قید میں موجود پاکستانی قیدیوں کی فہرست پاکستان ہائی کمیشن کو فراہم کرے گا۔
پاکستان نے دریائے چناب پر نئے ہائیڈروپاور پروجیکٹ پر بھی بھارت کو خبردار کردیا، طاہر اندرابی نے کہا کہ بھارت انڈس واٹر ٹریٹی کے تحت پاکستان کو بتائے بغیر مغربی دریاؤں پر کوئی پروجیکٹ نہیں بنا سکتا۔ پاکستانی انڈس واٹر کمشنر نے سوالات بھیجے ہیں، بھارت فوری اُن سوالات کا جواب دے۔