اسلام آباد : ( ڈپٹی بیورو چیف ابرار ولی) وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی
وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ملاقات دو روز قبل طے پائی تھی، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے خود ٹیلی فون کر کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو ملاقات کی دعوت دی تھی۔
پی ٹی آئی کے ذرائع بے کہا ہے کہ اس ملاقات میں کسی قسم کی سیاسی گفتگو نہیں ہوئی بلکہ صوبے کے مسائل اور دہشتگردی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا،
پاکستان تحریک انصاف کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے سہیل آفریدی سے عہدہ سنبھالنے کے بعد مبارکباد کے جواب میں “پوچھ کر بتاؤں گا” والا سہیل آفریدی کا بیان بھی زیر غور آیا جس کے جواب میں سہیل آفریدی نے کہا کہ یہ آپ کو بھی پتہ ہے ایسا میں نے کیوں کہا جبکہ عمران خان کی بیماری سے متعلق وزیراعظم مشیر برائے سیاسی امور راناثناءاللہ نے بات کی تو وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ “عمران خان سے ملاقات تو کر کے ہی رہیں گے”
ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اس ملاقات میں پیش کی گئی چائے نہیں لی،
وزیرِ اعظم شہباز شریف کی جانب سے اس موقع پر کہا گیا کہ ایسی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہے گا اور حالات بہتری کی طرف جائیں گے۔
وزیراعظم ہاوس آمد پر وزیراعلی سہیل آفریدی اور مزمل اسلم کا استقبال وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ اور وزیر گلگت و کشمیر امیر مقام نے کیا۔
خیال رہے کہ اتوار یکم فروری کو خیبر امن جرگہ سے خطاب میں وزیراعلی سہیل آفریدی نے اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات طے ہونے کا بتایا تھا